اکتوبر حملے سے قبل ایران نے حماس کو ہتھیار بنانے کی تربیت دی تھی: اسرائیلی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا کہ ایران نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حملہ کرنے سے پہلے حماس کو اپنے ہتھیار تیار کرنے میں مدد کی کوشش کی۔ غزہ کے باہر حماس کے ایک پک اپ ٹرک میں کمپیوٹر کے اندر سے ملنے والی ایک دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ حماس کے ایک فوجی کمانڈر نے حماس کے کارکنوں کے لیے ایرانی یونیورسٹیوں میں انجینئرنگ، فزکس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہتھیار بنانے کا طریقہ سیکھنے کے لیے سکالرشپ کی درخواست کی تھی۔

سی این این کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے کہا کہ یہ پہلا معلوم موقع ہے کہ ایران نے حماس کے کارکنوں کے لیے تربیت دینے کے لیے اس قسم کی یونیورسٹی سے متعلق مالی اعانت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس دعوے کی امریکی حکام نے تصدیق نہیں کی۔

یہ دستاویز گزشتہ جولائی کا ایک خط معلوم ہوتا ہےجس میں حماس کے ایک فوجی کمانڈر نے ایرانی حکومت کو درخواست کی تھی کہ اس کی یونٹ کے سات ارکان کو سکالرشپ پروگرام میں شرکت کے لیے ایران جانے کی اجازت دی جائے۔

موجودہ اور سابق امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ یہ پروگرام ایران کی طرف سے پیش کردہ ایک معروف تربیتی پروگرام کا حصہ ہے۔ یہ پروگرام وابستہ ملکوں اور گروپوں کے طلبہ کو پورے خطے میں نرم طاقت کے اثر و رسوخ کے حوالے سے آگاہی دیتا ہے۔

ایران میں اسلامک آزاد یونیورسٹی کی تہران میڈیکل برانچ
ایران میں اسلامک آزاد یونیورسٹی کی تہران میڈیکل برانچ

اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی سے کم از کم 50 طالب علموں کی اس وسیع تر پروگرام میں شرکت متوقع ہے لیکن ان میں سے سب حماس کے جنگجو نہیں ہیں۔ ابھی تک اسرائیلی انٹیلی جنس نے حماس کے صرف چند فوجیوں کی شناخت کی ہے جو حقیقت میں ایران پہنچے ہیں۔

اسرائیلی عہدیدار کے مطابق حماس کے جنگجوؤں نے یونیورسٹی کے پروگرام کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کی انجینئرنگ کی واضح تربیت بھی حاصل کی۔ یہ تربیت ممکنہ طور پر پاسداران انقلاب نے فراہم کی تھی۔

خطے کے امور کے ماہر ایک سابق سینئر انٹیلی جنس تجزیہ کار جوناتھن بنیکوف نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کا پروگرام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ حماس اور دیگر پراکسیز اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کریں تاکہ ان کا تہران پر مکمل انحصار نہ ہو۔

بینیکوف نے مزید کہا کہ ان کی بنیادی توجہ ہمیشہ بریگیڈز اور ہتھیاروں کی تیاری پر مرکوز رہے گی جو اسرائیل کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ جولائی کے خط میں ہر امیدوار کے نام، فوجی نمبر، فون نمبر اور خصوصیت کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

ایک امیدوار کو ٹیکنالوجی کے لیے، ایک کو فزکس کے لیے، ایک کو انجینئرنگ کے لیے، ایک کو پروگرامنگ کے لیے، ایک کو قانون کے لیے اور دو کو مینجمنٹ کے لیے بھیجنے کا کہا گیا ۔

اگرچہ یہ بات عام ہے کہ ایران حماس کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام اور کچھ سابق امریکی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز اس بات کا ثبوت ہیں کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے میں ایران تکنیکی تربیت فراہم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اگرچہ تہران کا اس حملے کی منصوبہ بندی یا اسے انجام دینے میں براہ راست کوئی دخل نہیں لگتا ہے تاہم اسرائیل اور امریکہ دونوں نے کہا ہے کہ ایران حماس کی تاریخی حمایت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر قصوروار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں