ایران حماس کی جانب سے جنگ نہیں کرے گا: علی خامنہ ای کا اسماعیل ھنیہ کو جواب

اوائل نومبر کی ملاقات میں ایرانی سپریم لیڈر نے حماس رہنما کو کہا ہمیں اس حملے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تین سینئر عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کو نومبر کے اوائل میں تہران میں ملاقات کرتے ہوئے واضح پیغام بھیجا تھا کہ حماس نے ایران کو 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بارے میں مطلع نہیں کیا تھا اور اس لیے تہران حماس کی جانب سے جنگ میں شامل ہونے کی بات کو نہیں مانے گا۔

علی خامنہ ای نے اسماعیل ہنیہ کو بتایا کہ ایران براہ راست مداخلت کیے بغیر حماس کے لیے اپنی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ بعض عہدیداروں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایرانی سپریم لیڈر اور حماس رہنما کی اس بات چیت کا انکشاف کیا ہے۔

حماس کے ایک عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ علی خامنہ ای نے ھنیہ پر زور دیا کہ وہ فلسطینی تحریک میں ان آوازوں کو خاموش کر دیں جو کھلے عام ایران اور اس کے لبنانی اتحادی حزب اللہ گروپ سے اسرائیل کے خلاف جنگ میں پوری طاقت کے ساتھ شامل ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

دریں اثنا حزب اللہ کے قریبی تین ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ حماس کی طرف سے گزشتہ ماہ شروع کیے گئے حملے سے بھی حیران تھا اور سرحد کے قریب دیہاتوں میں بھی حزب اللہ کے جنجگو اس حملے کے لیے تیار نہیں تھے۔

حزب اللہ کے ایک رہنما نے کہا کہ ہم جنگ کے لیے بیدار ہیں۔ اپنی طرف سے بیروت میں کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر میں حزب اللہ کے امور کے ماہر مہند الحاج علی نے کہا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے نے اس کے شراکت داروں کو اپنے سے بہت بڑی اور طاقتور فوج کے ساتھ لڑنے کے انتہائی مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کردیا ہے۔

یاد رہے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد عراق، شام اور لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ کئی دھڑوں اور گروہوں کی طرف سے اسرائیل کو دھمکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون بھی داغے ہیں۔ بہت سے مغربی ملکوں اور تجزیہ کاروں نے غزہ میں جاری جنگ کے وسیع تر علاقائی تنازع میں پھیلنے کے امکان سے خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں