غزہ کی جنگ بارے برطانوی پارلیمنٹ میں گرما گرم بحث، جنگ بندی کی قرارداد منظورنہ ہوسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی کے مطالبے کے لیے باہر ایک بڑے مظاہرے کے موقع پر برطانوی پارلیمنٹ نے بدھ کی شام کو غزہ جنگ کے حوالے سے دو بلوں پر ووٹنگ کی۔

پہلی قرارداد حزب اختلاف کی لیبر پارٹی نے پیش کی تھہ، جس میں اس نے غزہ میں جاری جنگ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس قرارداد کو خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہوسکی، کیونکہ 290 ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ 183 نے اس کی حمایت کی۔

دوسری قرارداد سکاٹش نیشنل پارٹی کے نمائندوں نے پیش کی اور غزہ میں مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا، لیکن یہ تجویز بھی ناکام ہوگئی، کیونکہ اسے 125 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، جب کہ 293 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

گرما گرم بحث

قابل ذکر ہے کہ حزب اختلاف کی لیبر پارٹی نے سیشن سے قبل ایک گرما گرم بحث کی۔ درجنوں ارکان نے سکاٹش نیشنل پارٹی کی غزہ میں مکمل جنگ بندی کے مطالبے کی تجویز کے حق میں ووٹ لہرایا، جب کہ پارٹی کی قیادت نے خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی۔

ووٹنگ سیشن کے دوران پارٹی کے متعدد ارکان نے حزب اختلاف کی شیڈو حکومت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا اورانہوں نے جنگ کو روکنے کے لیے لیبر پارٹی کی ناکافی تجویز کو مسترد کردیا۔

دوسری قرار داد کی حمایت کرنے والوں میں شیڈو منسٹر برائے خواتین و مساوات، یاسمین قریشی، وزیر برائے وفد پاؤلا پارکر، وزیر برائے برآمدات، افضل خان اور شیڈو منسٹر برائےانسداد گھریلو تشدد جیس فلپس حماکرنے والوں میں شامل ہیں جب کہ وزیر محنت عمران حسین نے 8 نومبر کو انہی وجوہات کی بنا پر شیڈو حکومت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں