فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کو فلسطینی شہریوں کو مارنے کا حق نہیں ہے: مہاتیر محمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر بن محمد نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کا فوجی حملہ ایک غیر متناسب ردعمل ہے، اور اس تنازعے کو حماس کے ساتھ مذاکرات اور دو ریاستی حل کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

مہاتیر محمد 1981 سے 2003 اور 2018 سے 2020 تک بطور وزیراعظم رہے۔ وہ ملائشیا کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ تک وزیراعظم رہے۔ مہاتیر محمد لمبے عرصے سے فلسطینی قومی حقوق کے حامی رہے ہیں۔

عرب نیوز کی اسسٹنٹ ایڈیٹر انچیف نور نقلي کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پچھلے نکبہ سے بھی بدتر ہے کیونکہ یہ جنگ نہیں ہے، یہ محض ایک انسانیت سوز ظلم ہے۔‘

’ہم فوجیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے نہیں دیکھ رہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیلی فوجی شہریوں کو مار رہے ہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے۔ یہ ایک انسانی تباہی ہے۔‘

امریکہ اور بہت سی دوسری مغربی حکومتوں نے بارہا اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور اس کی حماس کو ختم کرنے کی وسیع پیمانے پر حمایت کی ہے۔ حماس کو واشنگٹن اور بہت سے یورپی ممالک دہشت گرد تنظیم تصور کرتے ہیں۔

مہاتیر محمد نے کہا کہ ’اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن اسے یہ حق نہیں کہ فلسطینی شہریوں کو بے دریغ قتل کرے۔‘

’ان (اسرائیل) کا دعویٰ ہے کہ ان کے 14 سو افراد ہلاک ہوئے، لیکن اب وہ 12 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ یہ اسرائیل کے دفاع کو محفوظ بنانے کا طریقہ نہیں ہے۔‘

اسرائیل کے لیے مغربی حمایت میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی راہداریوں کے قیام، اور طویل عرصے سے مذاکرات کے لیے بڑھتے ہوئے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

مہاتیر محمد نے کہا کہ 7 اکتوبر کو حماس کا حملہ ناگزیر تھا، کیونکہ اسرائیل پہلے سے کیے گئے معاہدوں کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔ واضح رہے کہ مہاتیر محمد 1993-1999 کے امن عمل کے دوران ملائشیا کے وزیراعظم تھے، جب یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے اپنے ہدف کے قریب پہنچی۔

انہوں نے کہا کہ ’70 سال سے اسرائیلی فلسطینیوں پر ظلم کر رہے ہیں، ان کی زمینیں چھین کر ان پر بستیاں تعمیر کر رہے ہیں۔‘

’اور انہوں نے (فلسطینیوں) نے بہت سے طریقے آزمائے ہیں جن میں یاسر عرفات کی طرف سے مذاکرات بھی شامل ہیں۔ لیکن جب بھی انہوں نے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اسرائیلی اپنے وعدوں سے مکر گئے۔ مثال کے طور پر جب عرفات نے آخرکار اس بات پر اتفاق کیا کہ اسرائیل کی ریاست ہونی چاہیے، اور دو ریاستی حل ہونا چاہیے تو اسرائیلیوں نے اس وعدے پر عمل نہیں کیا۔‘

’تو فلسطینی کیا کر سکتے ہیں؟ انہیں بالآخر تشدد کا سہارا لینا پڑا۔ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ دنیا ان کی مدد نہیں کر رہی۔ انصاف نہیں ہو رہا۔ لہٰذا 7 اکتوبر کا حملہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس اپنی زمین دوبارہ حاصل کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ یہ دہشت گردی نہیں اپنے ملک کو آزاد کرانے کے لیے لڑائی ہے۔‘

مہاتیر محمد کو شک ہے کہ اسرائیل نے 1967 کی خطوط پر مبنی ایک آزاد فلسطینی ریاست اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالخلافہ بنانے کے امکان کو کبھی قبول نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ دراصل کیا چاہتے ہیں؟ وہ فلسطینیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہی ان کا آخری حل ہے۔‘

’انہوں (اسرائیل) نے یہ جرمنی کے نازیوں سے سیکھا۔ نازیوں کے نزدیک مسئلے کا حل تمام یہودیوں کو قتل کرنا تھا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل مسئلے کے حل کے لیے وہ نقطہ نظر اپنا رہا ہے، تمام فلسطینیوں کو قتل کرنا چاہتا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں ایک بھی فلسطینی باقی نہ رہے۔‘

واضح رہے کہ 1941 اور 1945 کے درمیان نازیوں کے ہاتھوں 60 لاکھ یہودی قتل کیے گئے تھے۔

ملائشیا کے سابق وزیراعظم کا خیال ہے کہ خطے کے عرب اور اسلامی ممالک کو فلسطینی خواتین اور بچوں کو پناہ دینے کی پیشکش کرنی چاہیے، جبکہ مردوں کو اسرائیل کے مستقل قبضے کو روکنے کے لیے پیچھے رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر اسرائیلی فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھتے ہیں تو ہمیں کم از کم خواتین اور بچوں کو پناہ فراہم کرنی چاہیے۔ ’مردوں کو غزہ میں ہی رہنا چاہیے کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو اسرائیلی غزہ پر قابض ہو جائیں گے۔ لہذا مرد وہیں رہیں اور انہیں اپنے دفاع کے لیے کوئی راستہ فراہم کیا جانا چاہیے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں