فلسطین اسرائیل تنازع

امریکہ نے سکولوں میں سام دشمن، مسلم مخالف امتیازی سلوک کی تحقیقات شروع کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمۂ تعلیم نے جمعرات کو کہا کہ اس نے چھ کالجوں اور ایک سکول ڈسٹرکٹ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جن پر غزہ میں اسرائیل-حماس جاری جنگ کے دوران سام دشمن یا مسلم مخالف امتیازی سلوک کے الزامات ہیں۔

ایسی ہی ایک مثال میں وفاقی استغاثہ نے گذشتہ ماہ کورنیل یونیورسٹی کے ایک طالب علم پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے آئیوی لیگ اسکول میں یہودی طلباء کو مبینہ طور پر آن لائن دھمکیاں دیں۔

سیکریٹری برائے تعلیم نے ایک بیان میں کہا، "ہمارے اسکولوں میں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں، بس! جب طلباء کو اس لیے نشانہ بنایا جائے کہ وہ یہودی، مسلمان، عرب، سکھ، یا کسی دوسری نسل یا مشترکہ نسب سے تعلق رکھتے ہیں یا ایسا سمجھا جاتا ہے تو اسکولوں کو محفوظ اور جامع تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے جہاں ہر کوئی سیکھنے کے لیے آزاد ہو۔"

زیرِ تفتیش کالجوں میں کارنیل، کولمبیا یونیورسٹی اور نیویارک ریاست میں کوپر یونین فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس اینڈ آرٹ، لافائیٹ کالج اور پنسلوانیا میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا اور میساچوسٹس میں ویلزلی کالج کو درج کیا گیا تھا۔

محکمہ نے کہا کہ وہ کنساس کے میز یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ کی بھی تحقیقات کر رہا تھا۔

7 اکتوبر کو فلسطینی اسلامی گروپ حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے پہلے دو ہفتوں میں ایڈوکیسی گروپ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 400 فیصد اضافہ دیکھا ہے۔

اس گروپ کے اعداد و شمار کے مطابق 312 میں سے 190 کے قریب سام دشمن واقعات کا تعلق اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ سے تھا۔ ان 190 میں سے نصف سے زیادہ واقعات ریلیوں پر مشتمل تھے جہاں گروپ کو "حماس اور/یا اسرائیل میں یہودیوں کے خلاف تشدد کی واضح یا مضبوط پوشیدہ حمایت" ملی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں