مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کا تشدد دہشتگردانہ پالیسی ہے: فرانس

ایران غزہ اور خطے میں تنازعات کو بڑھانے سے باز رہے: فرانسیسی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے کی جانے والی تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کی اور انہیں "دہشت گردی کی پالیسی" قرار دے دیا ہے۔ فرانس نے کہا ان کارروائیوں کا مقصد فلسطینیوں کو بے گھر کرنا ہے۔ فرانس نے اسرائیلی حکومت سے کہا کہ فلسطینیوں کو یہودی آباد کاروں کے تشدد سے بچایا جائے۔

Advertisement

اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی ترجمان این کلیئر لیجینڈرے نے یہ بھی کہا کہ فرانس کی طرف سے غزہ کے لیے بھیجی گئی 100 ٹن امداد میں سے تقریباً نصف غزہ کی پٹی میں پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا اسرائیل کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے کہ مستقبل میں غزہ پر کون حکومت کرے گا۔ پٹی کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ ہونا چاہیے۔

دریں اثنا فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے جمعرات کو اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کو فلسطین اسرائیل تنازع کو لبنان تک توسیع دینے سے خبردار کیا ہے۔

کولونا نے جنیوا میں اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ میرے ایرانی ہم منصب کے ساتھ آج کی ملاقات ایک انتباہ کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ غزہ میں تنازع کو بڑھانے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ یاد رہے سات اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے فرانسیسی صدر میکرون نے اسرائیل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

اس کے باوجود اسرائیلی حکام کی طرف سے انہیں اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے گذشتہ ہفتے پریس بیانات میں اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی بمباری کو روکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں