وسطی خرطوم میں سوڈانی فوج کی کمان کے آس پاس توپ خانے سے گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے مرکز میں سوڈانی فوج کی جنرل کمان کے قریب ایک بار پھر جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

جمعہ کے روز فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز[ آر ایس ایف] نے صبح سویرے سے ہی توپ خانے کی گولہ باری اور طیارہ شکن ہتھیاروں کا تبادلہ کیا۔ مشرقی جانب دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔

فوج کے توپ خانے نے ام درمان کے شمال سے شہر کے مغرب کی طرف اور دریائے نیل کے مشرقی کنارے پر واقع بحری شہر کے شمال کی طرف راکٹ گولے داغنے کا سلسلہ جاری رکھا جس میں تیزی سے کمک پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب پرانے ام درمان کے علاقے میں لڑائیوں کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے جہاں مسلسل لڑائیاں اور زمینی جھڑپیں جاری ہیں۔

ام درمان کے شمال میں کئی محلوں نے بڑی تعداد میں گولے گرتے دیکھےگئے، جس سے ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

دارفور کے علاقے میں العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ شمالی اور مشرقی دارفور کی ریاستوں میں ایک محتاط سکون ہے جب ریپڈ سپورٹ فورسز نے ان پر قابو پانے کا ارادہ کیا ہے کیونکہ وہ دارفور میں فوج کا آخری فوجی ہیڈکوارٹر ہیں۔

ذرائع کے مطابق شمالی دارفور میں الفاشر اور مشرقی دارفور کے الضعین میں شہری کوششیں ابھی بھی جاری ہیں جن کا نمقصد دونوں ریاستوں میں لڑائی کو روکنا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شمالی دارفور میں الفاشر میں واقع جوبا امن معاہدے پر دستخط کرنے والی کچھ مسلح تحریکوں جن کی قیادت مناوی اور جبریل ابراہیم کی تحریکوں نے کی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ غیر جانبداری ترک کر رہے ہیں اور انہوں نے سوڈانی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں