کشتی پر ہجرت کرکے ہالینڈ آنے والی کرد مسلمان خاتون وزارت عظمیٰ کی امیدوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگلے بدھ کو نیدرلینڈ اپنی تاریخ میں پہلی خاتون وزیر اعظم کا انتخاب کرنے والا ہے۔ ممکنہ طور پر وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں پہلی بار ایک مسلمان خاتون کرد خاتون کامیاب ہوسکتی ہیں۔ اگرچہ ان کے حریف اور بھی امیدوار ہیں مگر پولز اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ 46 سالہ وزیر انصاف دلان یسیلگوز ملک میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنھبالنے کے قریب ہیں۔

غیر ملکی اخبارات میں ان کے بارے میں جو خبریں شائع ہوئی ہیں ان میں کہا گیا تھا کہ ان کی متوقع جیت کی صورت میں وہ مارک روٹےکی جانشین ہوں گی جو 13 سال سے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔

توقع ہے کہ قدامت پسند پیپلز پارٹی فار فریڈم اینڈ ڈیموکریسی کی رہ نما ڈیلن یسیل گوز کو ووٹرز کے دائیں جانب منتقل ہونے سے فائدہ پہنچے گا۔ وہ 7 سال کی عمر میں ایک تارک وطن کے طور پر نیدرلینڈز میں اپنی والدہ کے ساتھ پہنچی تھیں۔

وہ خود یونانی جزیرے پر مسافروں سے بھری ایک کشتی میں پہنچیں اور یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات کو اچھی طرح جانتی ہیں، تاہم انہوں نے حالیہ عرصے میں پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔

ذیل میں دی گئی ویڈیو میں انہیں گذشتہ سال عراق کے شہر اربیل کے دورے کے دوران دیکھا جا سکتا ہے۔

پچھلے ہفتے یسیل گوز نے اپنے حریفوں پر برتری حاصل کی۔ انہوں نے ووٹروں سے وعدہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ان کی پالیسیوں کی حمایت کریں۔

کثیرالاشاعت اخبار’ڈی ٹیلی گراف‘ نےان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ "یہاں پناہ کے متلاشی بہت زیادہ ہیں، ہمارے پاس کافی رہائش نہیں ہے اور بہت کم انضمام ہے، جو ڈچ معاشرے اور مہاجرین دونوں کے ساتھ ناانصافی ہے"۔ یہ وہ تجاویز ہیں جو بطور وزیر انصاف پچھلی حکومت میں انہوں نے دیں جس سے قدامت پسند لبرل اتحاد مزید مضبوط ہوا۔

Dylan Yeşilgoz نےنو سال قبل ایک ڈچ شخص سے شادی کی تاہم ان کی ابھی تک اولاد نہیں ہے۔ وہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں پیدا ہوئیں اور اپنے ترک والدین کے ساتھ ایمسٹرڈیم میں پلی بڑھیں۔ وہیں وہ سیاست میں بھی سرگرم ہوگئیں جہاں ترقی کرتے ہوئے وہ آج ملک کی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنھبالنے والی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں