اسامہ بن لادن کا 2002 میں امریکیوں کو لکھا گیا خط پھر وائرل

غزہ پر حملے میں امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت پر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خط جاری کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کا ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد امریکی عوام کے نام لکھا گیا 2002 کا خط ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، سوشل میڈیا پر اسامہ بن لادن کا ایک خط وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ امریکا کو لکھتے ہیں کہ اگر فلسطین کی درد بھری چیخوں اور دہائیوں کو سنا جاتا تو یہ حملہ کبھی نہیں ہوتا۔

اسامہ بن لادن کا فلسطین میں اسرائیلی مظالم سے متعلق امریکا کو یہ خط سب سے پہلے ٹک ٹاک پر وائرل ہوا جس کے بعد تمام ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔

گذشتہ روز ٹک ٹاک نے امریکہ کو لکھے گئے خط کے بارے میں ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اپنے سرچ فنکشن سے لیٹر ٹو امریکا کا ہیش ٹیگ ہٹا دیا تھا۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق ٹک ٹاک سے ہٹائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اسے دوبارہ اپ لوڈ کیا گیا ہے، کچھ سوشل میڈیا صارفین نے کہا ہے کہ القاعدہ کے بانی کی دستاویز مشرق وسطی میں حالیہ تنازعات میں امریکا کی شمولیت کے بارے میں ایک متبادل نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔

پورے ہفتے کے دوران ٹک ٹاک صارفین بن لادن کے خط کا لنک شیئر کرتے رہے جو 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے تقریبا ایک سال بعد لکھا گیا تھا۔ دی گارڈین نے یہ خط شائع کیے تھے تاہم برطانوی اخبار نے بدھ کو اسے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا تھا۔ بیس سال پرانے خط کے چرچے اس ہفتے اسرائیل اور حماس جنگ پر بحث کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پھیل چکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں اسرائیل کیلیے امریکی حمایت پر تنقید کی گئی تھی اور امریکیوں پر فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی مظالم کی مالی معاونت کا الزام لگایا گیا تھا۔

اسامہ بن لادن مئی 2011 میں پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے خصوصی آپریشنز یونٹ کی کارروائی میں مارے گئے تھے۔ ٹک ٹاک نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس خط کو فروغ دینے والا مواد واضح طور پر دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی حمایت کرنے سے متعلق ہمارے قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ رپورٹس غلط ہیں کہ یہ پلیٹ فارم پر ٹرینڈ کر رہا تھا،جمعرات کو ٹک ٹاک کے اعلان کے بعد لیٹر ٹو امریکا کی سرچ کا کوئی رزلٹ ظاہر نہیں ہوا جبکہ ایک نوٹس ظاہر ہوا جس میں کہا گیا کہ یہ جملہ ہمارے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنیوالے مواد سے تعلق رکھتا ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان اینڈریو بیٹس نے بھی چینی ایپ پر کڑی تنقید کی۔ ترجمان نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نفرت انگیز، برائی اور یہود مخالف جھوٹ پھیلانے کا کوئی جواز نہیں، جو القاعدہ کے رہنما نے امریکی تاریخ کے بدترین دہشت گردانہ حملے کے بعد جاری کیا تھا۔

دی گارڈین نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ اس خط کو مکمل سیاق و سباق کے بغیر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جارہا ہے۔ ٹک ٹاک نے کہا کہ اس کا تجویز کردہ الگورتھم کسی خاص مواد کو صارفین تک نہیں پہنچاتا اور یہ کہ کمپنی نے 7 اکتوبر سے اب تک لاکھوں ویڈیوز کو غلط معلومات اور تشدد کو فروغ دینے کے خلاف پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے پر ہٹایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں