امریکا نے حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے افراد پر پابندیاں عاید کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعہ کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے سید الشہداء بریگیڈز اور اس کے سیکرٹری جنرل ہاشم فنیان رحیم السراجی کو "خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد" قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کر دیا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ "سید الشہداء بریگیڈز کی دہشت گردانہ کارروائیوں نے عراق اور شام میں داعش کو شکست دینے کے لیے امریکا اور بین الاقوامی اتحاد کے ارکان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے"۔

بلنکن نے وضاحت کی "اس وقت محکمہ خزانہ نے پابندیوں کی فہرست میں ایران کی اتحادی کتائب حزب اللہ ملیشیا سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کو شامل کیا ہے"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور اس کی غیر ملکی آپریشن فورس جسے قدس فورس کہا جاتا ہے کے ذریعے "کتائب سید الشہداء"، "کتاب حزب اللہ" اور دیگر ملیشیا گروپوں کی تربیت، فنانسنگ اور جدید ہتھیاروں جن میں بغیر پائلٹ گائیڈڈ فضائی نظام کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

"کتائب سید الشہداء" جو بعض اوقات امریکا کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی دیگر تنظیموں کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ان میں "کتائب حزب اللہ" اور "حرکت النجابہ" شامل ہیں۔

عراق اور شام میں امریکی اڈوں پر حملے

اس تناظر میں دو امریکی اہلکاروں نے جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کہا کہ شام اور عراق میں امریکی افواج پر حملوں کی تازہ ترین لہر میں جمعے کو ایک امریکی فوجی معمولی زخمی ہوا۔

امریکا نے اکتوبر کے وسط سے عراق اور شام میں امریکی افواج پر 60 سے زیادہ حملوں کا الزام ایران اور ان مسلح دھڑوں پر عائد کیا ہے جو 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیل اور حماس تحریک کے درمیان جنگ کی وجہ سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

17 اکتوبر سے کم از کم 60 فوجیوں کو معمولی چوٹیں آئیں، جن میں سے زیادہ تر کو دماغی چوٹیں آئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ تمام امریکی ڈیوٹی پر واپس آچکے ہیں۔

عراقی کردستان کے علاقے میں دو امریکی اہلکاروں نے بتایا کہ صرف جمعے کے دوران عراق اور شام میں امریکی افواج پر تین بار حملے کیے گئے۔

شام میں 7 اکتوبر سے اب تک امریکی افواج پر 32 حملے ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں