پوپ فرانسس اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں اور فلسطینی شہدا کے خاندانوں سے ملاقاتیں

22 نومبر کو ہونے والی یہ ملاقاتیں ویٹیکن سٹی میں ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پوپ فرانسس اگلے ہفتے غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ ویٹیکن سٹی میں ہونے والی ان امکانی ملاقاتوں میں فلسطینی خاندانوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی طے کی گئی ہیں۔

پوپ فرانسس اس سے پہلے سب کو پر امن رہنے اور جنگ روکنے کا ایک سے زائد بار مشورہ دے چکے ہیں۔ ان کی یہ ملاقاتیں انسانی بنیادوں پر بتائی جاتی ہیں۔ جس میں اسرائیل کے مبینہ 240 سے کچھ کم یرغمالی غزہ میں اب بھی حماس کے کنٹرول میں ہیں۔

جبکہ دوسری طرف غزہ میں اسرائیل کی مسلسل بمباری سے اب تک 5000 فلسطینی بچے، 3300 فلسطینی خواتین اور مجموعی طور پر 12000 سے زائد غزہ کے رہنے والے شہید ہو چکے ہیں۔ فلسطینی زخمیوں کی تعداد 30000 سے زائد بتائی گئی ہے۔

غزہ کے ہسپتال، مساجد، گرجا گھر اور تعلمی ادارے سب کچھ ہی اسرائیلی بمباری کی زد میں آتے رہے اور اسرائیلی طیارے جان بوجھ کر انہیں بمباری کا نشانہ بناتے رہے۔ اسرائیل کی اس بمباری کو امریکہ اور یورپ کے کئی بڑے ملکوں کی مکمل حمایت حآصل رہی۔

ویٹیکن سٹی کی طرف سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے بارے میں بیان جمعہ کے روز سامنے آیا۔ بیان کے مطابق 86 سالہ پوپ ملاقاتوں کے ذریعے دکھی دل خاندانوں کے ساتھ روحانی قربت ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔

بیان کے مطابق یہ ملاقاتیں بدھ کے روز 22 نومبر کو پوپ کی معمول کی سرگرمیوں کی سائیڈ لائنز پر ہوں گی۔ اسرائیلی اور فلسطینی متاثرہ خاندونوں کے گروپوں کے ساتھ پوپ کی ملاقاتیں الگ الگ اوقات میں ہوں گی۔

واضح رہے شہید ہونے والے 5000 فلسطینی بچوں اور 3300 خواتین کے ورثا میں سے بہت سارے ان کے ساتھ ہی شہید ہو چکے ہیں۔ جبکہ ان میں سے بعض کے ورثا زخموں سے چور ہیں مگر ہسپتال کے بجائے پناہ گزین کیمپوں میں پڑے ہیں یا اب بھی غزہ کی گلیوں میں اسرائیلی بمباری کے خطرے کی زد میں ہیں۔

پوپ فرانسس نے پچھلے ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'ہر عیسائی، مسلمان اور کسی بھی اور مذہب کا بندہ اللہ کی نظر میں مقدس بھی ہے اور قیمتی بھی ہے۔ اور اسے امن کے ساتھ زندہ رہنے کا مسلمہ حق ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں