تہران کے غزہ میں داخلے سے امریکہ کیساتھ جنگ چھڑ سکتی: ایرانی رہنما

اسرائیل غزہ کی جنگ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دوسری جنگ میں بدلنا چاہتا تھا: رکن ایکسپیڈینسی ڈسرنمنٹ کونسل غلام علی حداد عادل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی ایکسپیڈینسی ڈسرنمنٹ کونسل کے ایک سرکردہ رکن غلام علی حداد عادل نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ سے بچنے کے لیے غزہ کی لڑائی میں شرکت سے انکار کردیا۔ غلام علی حداد عادل نے کہا اسرائیل امید کر رہا تھا کہ ایران غزہ کی جنگ میں شامل ہو جائے گا اور اس کا امریکہ کے ساتھ تصادم شروع ہوجائے گا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ہمیں ان لوگوں سے کہنا چاہیے جو چاہتے ہیں کہ ایران غزہ کی جنگ میں داخل ہو، شاید یہ وہی چیز ہے جو صہیونی ادارہ چاہتا ہے۔ صہیونی ادارہ چاہتا ہے کہ غزہ کی جنگ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دوسری جنگ میں بدل دیا جائے۔ ایران نے غزہ جنگ میں شرکت سے گریز کرنے کا درست فیصلہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر تہران جنگ میں شریک ہوجاتا تو صہیونی نظام محفوظ ہوجاتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا غزہ سے نکلنے کا فیصلہ فلسطینیوں کے مفاد میں ہے۔ غلام علی نے مزید کہ شاید ایران کا جنگ میں شامل ہونا فلسطینی کاز کے مفاد میں نہیں ہے۔

اسی تناظر میں سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک پریس انٹرویو میں ایرانی رہبر علی خامنہ ای کے موقف کی تعریف کی تھی جنہوں نے حماس کے شانہ بشانہ جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا اور اسے سمارٹ پوزیشن قرار دیا۔

جواد ظریف نے مزید کہا کہ فلسطینی مزاحمت کے لیے ہماری حمایت میں ان کے ساتھ جنگ میں شرکت کرنا شامل نہیں ہے۔

غزہ میں جاری جنگ کو 43 دن ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی کی خوفناک بمباری اور زمینی کارروائیوں میں 12300 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں