بعد از حماس:فلسطینی اتھارٹی کو غزہ اور مغربی کنارے دونوں پر حکومت کرنا ہے: جوبائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جوبائیڈن نے غزہ سے حماس کے اثر و رسوخ کے مکمل خاتمے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو استعمال کرنے کے فارمولے کے سلسلے میں کہا ہے ' اسرائیل حماس جنگ کے بعد بالآخر فلسطینی اتھارٹی کو مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ غزہ پر بھی حکومت کرنا ہو گی۔' انہوں نے اس امر کا اظہار واشنگٹن پوسٹ میں اپنے مضمون میں لکھا ہے۔

اسرائیل کی حماس کے خلاف جاری جنگ اور اس جنگ کے لیے امریکی حمایت کے پس منظر میں صدر جوبائیڈن نے کہا ' جیسا کہ ہم امن کے لیے کوشش کر رہے ہیں، مغربی کنارے اور غزہ کو ایک حکومتی ڈھانچے کے نیچے آنا ہو گا۔ بالآخر ایک نئے احیاء کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے طور پر آگے آنا ہو گا جیسا کہ ہم دو ریاستی حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔'

انہوں نے اپنے لفظوں کے ذریعے بیان کردہ موقف میں کہا ' غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے، نہ کوئی دوبارہ قبضہ ہونا چاہیے اور نہ ہی محاصرہ یا علاقے کی زمین میں کسی قسم کی کمی ہونی چاہیے۔'

یہ بات انہوں نے بنیادی طور پر اس سوال کہ غزہ میں اسراائیل اور حماس کی جنگ کے بعد کیا ہوگا ۔ کے جواب کے طور پر کہی۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو یہ کہہ چکے ہیں کہ ' اسرائیل کو جنگ کے بعد بھی مجموعی پر سیکیورٹی کے ایشوز کو سنبھالنے کے لیے مستقبل میں بھی فوجی ذمہ داری کو برقرار رکھنا ہو گا۔ '

جوبائیڈن نے اپنے تحریر کردہ مضمون میں یہ بھی لکھا ' امریکہ انتہا پسندوں کے لیے ویزا اجراء پر پابندی لگا دے۔ ایسے انتہا پسند جو مغربی کنارے میں شہریوں پر حملے کرتے ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو یہودی آباد کاروں کے طور پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

میں نے اسرائیلی لیڈروں کے ساتھ اس بات پر زور دیا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسندانہ اور پرتشدد حملے نہیں ہونے چاہییں، ان پر تشدد واقعات کو ضرور روکا جانا چاہییے اور تشدد کرنے والوں کا حتساب کیا جانا چاہیے۔'

واضح رہے مغربی کنارا 30 لاکھ فلسطینیوں کی رہائش کا مرکز ہے، جبکہ ان کے علاوہ 15 لاکھ کے قریب یہودی آباد کار رہتے ہیں۔ یہ آباد کار پرتشدد واقعات کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں