امریکہ کے سابق صدر کے ہم خیال جیئر بولسونارو ارجنٹائن کے صدر منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ارجنٹائن میں پیر کے روز نئے صدر کا انتخاب کیا گیا۔ نو منتخب صدر جیئر بولسونارو موجودہ البرٹو فرنینڈس سے بالکل مختلف ہیں۔ اسے سابق امریکی صدر ٹرمپ کی ’ڈمی‘ کہا جا سکتا ہے کیونکہ ٹرمپ کی طرح اس نے بھی اسرائیل میں ارجنٹائن کے سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بولسونارو ایک شدت پسند اور سخت گیر شخص ہے جس کے فلسطینیوں کے حوالے سے خیالات ٹرمپ کے خیالات سے کافی حد تک مماثلت رکھتے ہیں۔

صدارتی انتخابات کے دوسرے راؤنڈ میں 36 ملین ووٹرز کو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، جس میں 51 سالہ سینٹرسٹ سرجیو ماسا نے جیویر میلے سے مقابلہ کیا۔ اس کشیدگی کے شکار ملک میں 40 سال سے جمہوری حکمرانی کی واپسی کے بعد شاید ہی کوئی سیاست دان بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا ہو تاہم اس بار دائیں بازو کو 55 فی صد ووٹ ملے جب کہ ماسا کو 44 فی صد ووٹ حاصل ہوئے۔

پیر کو فجر کے وقت اپنی فتح کے موقع پر ایک تقریر میں میلی نے کہا کہ "آج ہم اپنی تاریخ کا صفحہ پلٹنا شروع کر رہے ہیں اور اس راستے کی طرف لوٹ رہے ہیں جسے ہمیں کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔" انہوں نےاپنے حامیوں کے ایک ہجوم کے سامنے مزید کہا کہ آج ہم اس راستے پر لوٹ رہے ہیں جس نے اس ملک کو عظیم بنایا تھا"۔

لاطینی امریکی رہ نماؤں نے جیویر میلی کو ارجنٹائن کے صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے "ایکس" پلیٹ فارم پر لکھا کہ "ارجنٹینا ایک عظیم ملک ہے اور ہمارے تمام احترام کا مستحق ہے۔ برازیل ہمیشہ رہے گا۔

ایکواڈور کے صدر گیلرمو لاسو نے بھی "ایکس" پلیٹ فارم پر لکھا کہ "ایکواڈور کی حکومت منتخب صدر کو مبارکباد پیش کرتی ہے اور ان کی بڑی کامیابی اور ترقی کی خواہاں ہے۔ توقع ہے کہ نو منتخب صدر کی قیادت میں ارجنٹائن مزید ترقی کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں