ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے حملے رک نہیں رہے: پینٹاگون میں غم و غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق اور شام میں امریکی فوجی اڈوں اور فورسز پر گزشتہ ماہ کے وسط سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جاری جنگ کی روشنی میں امریکی محکمہ دفاع میں بے چینی اور شکوک و شبہات پھیلنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی افواج پر حملوں میں اضافے نے پینٹا گون کے اندر کچھ لوگوں کو ناراض کردیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع یا پینٹاگون میں کچھ مایوس عہدیداروں نے کہا ہے کہ ایرانی پراکسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی گئی تھی وہ غیر مربوط یا غیر موثر ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے ان حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر بائیڈن نے ان حملوں کا جواب دینے کے لیے جو محدود فضائی حملوں کی منظوری دی تھی وہ ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

ایک دفاعی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اس کی کوئی واضح تعریف نہیں ہے کہ ہم کس چیز کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ہم مستقبل میں ایرانی حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ یہ واضح ہے کہ اس حکمت عملی نے کام نہیں کیا ہے۔

خاص طور پر شام میں ایران حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے امریکی فوجی اڈوں پر حملے کئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں نے تہران پر بار بار زور دیا ہے کہ وہ ان مسلح گروہوں کو لگام ڈالے ورنہ ان کارروائیوں کا جواب دیا جائے گا۔ تاہم ان انتباہات پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

اس تناظر میں پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار نے انکشاف کیا کہ پینٹا گون نے شام میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے اب تک کیے گئے اقدامات کے علاوہ بائیڈن کو اضافی اختیارات پیش کیے ہیں۔ خطے میں تہران کی پراکسیوں کو روکنے کے لیے محکمہ دفاع کے اندر موجودہ طرز عمل کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اچھے متبادل بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا پینٹاگون کو اب تک اٹھائے گئے اقدامات کے چند موثر متبادل نظر آرہے ہیں جن میں محدود جوابی فضائی حملوں کا اختیار بھی شامل ہے۔ اسی طرح فضائی دفاعی ہتھیاروں کو بڑھانا اور اسرائیل اور ایران کے قریب دو طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایران پر براہ راست حملے بڑے پیمانے پر کشیدگی پیدا کریں گے اور ایسے حملے خطے کو افراتفری میں ڈال سکتے ہیں۔ اسی لیے پینٹاگون دوسرے آپشنز کا مطالعہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر کے وسط سے عراق ہو یا شام میں موجود امریکی افواج پر راکٹوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے 61 حملے کئے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں