بین الاقوامی جہاز پر حملہ تہران کی بڑھتی جارحیت کا بتا رہا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں ایک بحری جہاز پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ ایرانی حملوں کے حوالے سے ایک اگلا اقدام ہے۔ نیتن یاھو نے کہا اس سے بین الاقوامی شپنگ لائنوں کی حفاظت پر بین الاقوامی اثرات مرتب ہوں گے۔

اپنے دفتر سے ایک بیان میں نیتن یاہو نے ایک بین الاقوامی جہاز پر ایرانی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ جہاز کو ہائی جیک کرنا حوثی ملیشیا کی جانب سے ایرانی ہدایات کے زیر اثر عمل میں آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حوثیوں نے جس جہاز پر حملہ کیا وہ ایک برطانوی کمپنی کی ملکیت تھا اور اسے جاپانی کمپنی چلاتی تھی۔

انہوں نے لکھا کہ بحری جہاز پر 25 افراد سوار ہیں جن میں یوکرینی، بلغاریائی، فلپائنی اور میکسیکن افراد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا بحری جہاز پر کوئی اسرائیلی نہیں تھا۔ اس جہاز کو ایک اسرائیلی کمپنی سے کرائے پر لیا گیا تھا۔

اس سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے اتوار کو اعلان کیا کہ حوثیوں کی طرف سے ہائی جیک کیا گیا بحری جہاز ایک اسرائیلی کمپنی نے چارٹر کیا تھا اور اس پر بہاماس کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور اس بحری جہاز پر بین الاقوامی عملہ کام کر رہا تھا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے بھی کہا حوثیوں کے قبضے میں لیے گئے بحری جہاز پر کوئی اسرائیلی نہیں تھا۔ یہ بحری جہاز ترکی سے ہندوستان کے راستے پر ایک بین الاقوامی عملے کے ساتھ بغیر کسی اسرائیلی کے روانہ ہوا تھا۔

یمن کے حوثیوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس بحری جہاز کو نشانہ بنائیں گے جس پر اسرائیلی جھنڈا لہرا رہا ہوگا یا اسے اسرائیلی کمپنیاں چلا رہی ہوں گی یا وہ اسرائیلی کمپنیوں کی ملکیت ہوگا۔

یمن میں دارالحکومت صنعا پر کنٹرول رکھنے والے حوثیوں نے دنیا بھر کے ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان بحری جہازوں کے عملے پر کام کرنے والے اپنے شہریوں کو واپس بلا لیں اور اپنے بحری جہازوں کو ایسے بحری جہازوں سے دور رکھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں