ضبط کردہ جہازکے معاملےپرحوثیوں سے براہِ راست رابطہ‘: جاپان،ایران کی ملوث ہونےکی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جاپان نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے "براہِ راست رابطہ" کر رہا ہے جب اس نے ایک اسرائیلی تاجر کی ملکیت اور ایک جاپانی فرم کے زیرِ انتظام چلنے والے جہاز پر قبضہ کر لیا جس میں 25 افراد کے قریب عملہ سوار تھا۔

جاپانی وزیرِ خارجہ یوکو کامیکاوا نے کہا کہ ٹوکیو "اسرائیل کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا اور حوثیوں سے براہِ راست رابطہ کرنے کے علاوہ ہم سعودی عرب، عمان، ایران اور دیگر متعلقہ ممالک سے بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ حوثیوں سے جہاز اور عملے کے ارکان کی جلد از جلد رہائی کے لیے زور دیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہماری حکومت صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ممالک کے ساتھ تعاون میں ضروری اقدامات کرتی رہے گی۔"

حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری نے کہا تھا کہ حوثیوں نے اتوار کے روز "ایک اسرائیلی جہاز" کو قبضے میں لے لیا تھا لیکن اسرائیل نے کہا کہ یہ جہاز ایک برطانوی کمپنی کی ملکیت تھا۔

میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبرے نے کہا کہ رے کار کیریئرز کو جہاز کے مالک کے طور پر درج کیا گیا تھا جس کی بنیادی کمپنی ایک اسرائیلی تاجر ابراہم "رامی" انگار کی ہے۔

جاپانی حکومت نے پیر کے اوائل میں کہا تھا کہ وہ گیلیکسی لیڈر کی ضبطی کی "سختی سے مذمت" کرتی ہے جسے ایک جاپانی فرم نپون یوسین نے چلایا تھا جسے این وائی کے لائن بھی کہا جاتا ہے۔

اسرائیل نے کہا کہ گاڑیوں کی نقل و حمل کا جہاز ترکی اور ہندوستان کے درمیان عازمِ سفر تھا اور 25 افراد پر مشتمل عملے میں یوکرینی، بلغاریائی، فلپائنی اور میکسیکن شامل تھے لیکن کوئی اسرائیلی نہیں تھا۔

اسرائیل نے مزید کہا کہ یہ واقعہ "ایرانی دہشت گردانہ کارروائی" تھا جس کے بین الاقوامی سمندری سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے۔

تاہم ایران نے پیر کے روز اسرائیلی دعووں کی تردید کی ہے اور یہ بات ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

کنعانی نے کہا، "ہم نے متعدد بار کہا ہے کہ خطے میں مزاحمتی گروپ آزادانہ اور خود ساختہ طور پر اپنے مفادات اور اپنے لوگوں کے مفادات کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی دعوؤں کا مقصد غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی "ناقابلِ تلافی شکست" سے توجہ ہٹانا ہے۔

تہران کے اتحادی حوثی غزہ میں لڑنے والے فلسطینی حماس کے عسکریت پسندوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں