برکس رہنماؤں کا غزہ میں فوری جنگ بندی پر زور، جنوبی افریقہ کی ’نسل کشی‘ کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامفوسا نے کہا کہ’اسرائیل کی جانب سے طاقت کے غیر قانونی استعمال کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو اجتماعی سزا دینا جنگی جرم ہے۔ غزہ کے شہریوں کو جان بوجھ کر ادویات، ایندھن، خوراک اور پانی سے محروم کرنا نسل کشی کے مترادف ہے۔‘

وہ منگل کے روز برکس گروپ آف نیشنز کے رہنماؤں کے روز ایک غیر معمولی سربراہی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس کے چیئرمین جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر فلسطینی علاقے میں جنگی جرائم اور ’نسل کشی‘ کا الزام عائد کیا۔

جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریا میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ برکس کے ورچوئل اجلاس کا انعقاد ہوا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’تنازعات کے تمام فریقین کو فوری طور پر جنگ بندی اور دشمنی ختم کرنی چاہیے۔ شہریوں کو نشانہ بنانے والے تمام تشدد اور حملوں کو روکنا چاہیے اور شہری قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے تاکہ مزید جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔‘

شی جن پنگ نے کہا کہ ’مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن و سلامتی ممکن نہیں ہے۔‘

برکس کے رہنماؤں اور نمائندوں نے کہا کہ امن کو یقینی بنانے کے لئے فلسطینی اسرائیل تنازع کے طویل مدتی سفارتی حل کی ضرورت ہے اور شی نے اس مقصد کے حصول کے لئے ’بین الاقوامی امن کانفرنس‘ کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل نے غزہ پر سات اکتوبر سے مسلسل بمباری اور زمینی حملے شروع کر رکھے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں میں اب تک 13 ہزار 300 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں