بھارت کی گنجان آباد ترین ریاست کی کچھ مصدقہ حلال مصنوعات پر پابندی

دودھ، ملبوسات، ادویات، بیکری، چینی، خوردنی تیل اور دیگر مصنوعات کی تقسیم کاری اور فروخت پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت کی گنجان آباد ترین ریاست اتر پردیش میں حکام نے مصدقہ حلال مصنوعات بشمول ڈیری، ملبوسات اور ادویات کی تقسیم کاری اور فروخت پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی ہے کہ یہ غیر قانونی ہے۔

ریاستی حکومت کے ایک نوٹیفکیشن میں ہفتہ کو کہا گیا کہ بیکری کی اشیاء، چینی، خوردنی تیل اور دیگر مصنوعات کی تقسیم کاری اور فروخت پر پابندی عائد کردی جائے گی جن پر تیار کنندہ کمپنیوں نے 'حلال مصدقہ' کا لیبل لگایا ہوا تھا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے، "غذائی مصنوعات کی حلال سرٹیفیکیشن ایک متوازی نظام ہے جو کھانے کی اشیاء کے معیار کے حوالے سے ابہام پیدا کرتا ہے۔"

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ملک کا ایک اعلیٰ ادارہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا ملک میں فروخت ہونے والی زیادہ تر خوردنی مصنوعات کے معیارات کے تعین کا ذمہ دار ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ کھانے کی مصنوعات کو ان معیارات پر پورا اترنا چاہیے۔

اتر پردیش جس پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے فسادی ہندو راہب یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے، بھارت کی سب سے بڑی اور گنجان آباد ترین ریاست ہے۔

آدتیہ ناتھ اور ان کی حکومت دونوں پر ناقدین نے ریاست کی قابلِ ذکر مسلم آبادی کے خلاف تقسیم کا ایجنڈا رکھنے کا الزام لگایا ہے جس کی وہ مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔

بی جے پی کے ریاستی ترجمان راکیش ترپاٹھی نے پیر کو رائٹرز کو بتایا۔ "مذہب کو کھانے میں نہیں لانا چاہیے۔ کئی اشیاء مثلاً کپڑے، چینی وغیرہ کو حلال قرار دیا جا رہا تھا جو خلافِ قانون ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں