جنگ کے آغاز کے بعد سے تل ابیب پر اب تک کا سب سے بڑا راکٹ فائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ تل ابیب اور وسطی اسرائیل پر سات اکتوبر کو جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا راکٹ داغا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی سے تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے شہروں کی طرف راکٹوں کی بوچھاڑ کی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے پیر کی شام بتایا کہ تل ابیب اور اسرائیل کے وسطی علاقے میں میزائل وارننگ سائرن بجنا شروع ہوگئے ہیں۔

Advertisement

غزہ کی پٹی سے برسائے گئے اس بڑے راکٹ کے حوالے سے مزید تفصیلات واضح نہیں ہوئی ہیں۔ القسام بریگیڈز نے کہا کہ اس نے شہریوں کے قتل عام کے جواب میں وسطی اسرائیل میں تل ابیب پر راکٹوں سے بمباری کی۔

طیارے کی لینڈنگ کی منسوخی

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ سے آنے والے ایک اسرائیلی مسافر طیارے کو آج غزہ کی پٹی سے سائرن بجنے اور راکٹ فائر کیے جانے کے بعد تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ پر لینڈنگ منسوخ کرنا پڑی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اسرائیلی ایئر لائنز ’’ ایل آل‘‘ کا طیارہ لینڈ کرنے ہی والا تھا کہ اس نے پھر اڑان بھر لی۔

سدیروت پر گولہ باری

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق پیر کو غزہ کی پٹی سے سدیروت کی طرف کئی گولے فائر کیے گئے جس کے بعد شہر اور آس پاس کے متعدد مقامات پر سائرن بجنے لگے۔ گولہ باری کے نتیجے میں اسرائیلیوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں