روس اور یوکرین

یوکرین، موسم سرما میں جنگ لڑنے کو تیار ہے۔ امریکی وزیر دفاع

غیر اعلانیہ دورہ یوکرین کیا ۔صدر زیلنسکی کو مکمل مدد کا یقین دلا یا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وزیر دفاع نے روس یوکرین جنگ میں سردی کے موسم میں شدت کے اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کی فوج موسم سرما میں لڑنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا ' جنگ کے دوران کسی کے لیے بھی گولی چاندی کی نہیں ہوتی ہے۔

پینٹا گون کی طرف سے جاری کیے گئے وزیر دفاع کے بیان کے مطابق ' یوکرینی فوج نے پچھلے سال روس کے خلاف بڑا کام دکھایا ہے۔ میں سمجھتا ہوں وہ اب بھی سرما کے دوران کی لڑائی کے لیے خوب تیار ہے۔' امریکی وزیر دفاع سے بھی ملے ہیں تاکہ انہیں امریکی حمایت کا ایک بار یقین دلا سکیں۔

امریکہ کے اہم دفاعی عہدے دار نے پیر کے روز یوکرین کا غیر اعلانیہ دورہ بھی کیا ہے اور صدر کے علاوہ یوکر ین کے وزیر دفاع سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان ملاقاتوں کے دوران روس کے خلاف طویل مدتی اور مختصر مدت کے جنگی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

وزیر دفاع نے یوکرینی صدر زیلنسکی کے حوالے سے کہا' یہ سال روس کے لیے جارحانہ ثابت ہو گا۔' ہم نے سرما کے دوران جنگ کو تیز کرنے کے لیے اپنے امدادی ' ڈرا ڈاؤن ' پیکج میں کچھ ایسی چیزیں شامل کی ہیں۔ جو ہم نے پچھلے سرما کی جنگ کے لیے بھی جنگی سامان کی صورت یوکرین کو دی تھیں۔'

وزیر دفاع نے مزید کہا ' وہ سمجھتے ہیں کہ یوکرین کوسردیوں کی جنگ میں دشمن کو شکست دینا چاہیے ، اس سلسلے میں بھی خیال کرتا ہوں کہ میں صدر ولادی زیلنسکی کے ساتھ متفق ہوں۔ اس مقصد کے لیے ٹھیک چیز یہ ہے کہ جنگی دباؤ جاری رکھا جائے، اور جنگ کو دشمن پر حاوی کر دیا جائے۔'

امریکی وزیر دفاع آسٹن نے زور دے کر کہا ' اس جار اس جنگ کی طرح کسی بھی جنگ میں کوئی بھی گولی چاندی کی نہیں ہوتی ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ اپنی صلاحیت بروئے کار لائی جائے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو باہم مربوط کرتے ہوئے زیادہ موثر بنایا جائے۔'

ان کا کہنا تھا ' یہ ایف سولہ طیارے ہوں یا امریکہ کے جدید میزائل ہوں یا اسی نوعیت کا کوئی دوسرا اسلحہ ہو اصل بات یہ ہے کہ اس طریقے سے اپنی صلاحیتوں کو مربوط کر کے اپنے جنگی اثرات بڑھاتے ہیں۔

انہوں نے یوکرینی قیادت کو ایک بار پھر یقین دہانی کرائی کہ یوکرین کی مدد جاری رہے گی۔ اس دوران میدان جنگ میں یوکرینی کی کامیابی کے لیے اس کی ضرورتوں کا جائزہ لیا گیا۔

امریکہ کی طرف سے وزیر دفاع آسٹن نے اس موقع پر یوکرین کے لیے ایک سو ملین ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا۔ اس پیکج میں اضافی فضائی دفاعی نظام ، توپ خانے سے متعلق گولہ بارود، ٹینک شکن اسلحہ بھی شامل ہے۔

یوکرینی صدر زیلنسکی کی طرف سے ملاقات کے دوران موسم سرما کی شدت کے دوران جنگی ضرورتوں پر فوکس کیا گیا تھا۔ تاکہ دفاعی اور جنگی دونوں ضرورتوں کو اچھے طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں امریکی وزیر دفاع کو روس کےساتھ جاری جنگ کے تازہ منظر نامے بارے بھی بریف کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں