روسی صدر پوتین کی دعوت پر’برکس‘ قیادت بھی غزہ پر ہم آواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے 'برکس' ممالک کے رہنماوں کے سامنے غزہ میں جاری بحران کا معاملہ اٹھا دیا۔ اور فوری جنگ بندی کے ذریعے غزہ میں جاری انسانی تباہی رکوانے پر زور دیا۔

غزہ میں اب تک 13000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 5500 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم اسرائیلی بمباری اور ٹینکوں سے گولہ باری میں کوئی کمی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل دنیا بھر سے سامنے آنے والے جنگ بندی کے مطالبے کو بھی تسلیم نہیں کر رہا ہے۔

ولادی میر پوتین نے 'برکس لیڈر شپ' کے ساتھ ویڈیو لنک پر بات کی اور مشرق وسطی میں پیدا اس سنگین تر صورت حال کی جانب توجہ مبذول کرائی۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا روس سمجھتا ہے کہ دنیا میں 'برکس' ممالک کی آواز سنی جانی چاہیے۔' تاکہ اسرائیل اور اس کی حمایت میں کھڑے ملکوں کو باور کرایا جا سکے کہ جنگ بندی سے غزہ میں انسانی جانوں کا مزید نقصان روکا جا سکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس ویڈیو کانفرنس کی صدارت جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے کرنا طے تھا۔ ویڈیو لنک پر ہونے والے 'برکس' اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اس میں چھ ملکوں کے سربراہان کو دعوت دی گئی ہے۔

پیر کے روز روس کے ایوان صدر سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا اجلاس میں سعودی عرب، ایران، مصر، ایتھوپیا، ارجنٹینا اور متحدہ عرب امارات کو شریک ہونا ہے۔

علاوہ ازیں ویڈیو لنک اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی بطور خاص شرکت کا فیصلہ ہوا تھا۔ ابھی وڈیو کانفرنس پر ہونے والے 'برکس' اجلاس کے حوالے سے ابھی تفصیلات کا انتظار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں