اسرائیل حماس جنگ بندی معاہدے کی دنیا بھر سے پذیرائی کا سلسلہ جاری

جنگ بندی مستقل ہونے اور مسئلے کے پائیدار حل کی توقع کا اظہار بھی کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان چار روزہ جنگ بندی کا علاقائی اور بین الاقوامی سطح کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ خیر مقدم کرنے والے ممالک نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ یہ کوشش جاری بحران کے خاتمے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو گی۔

دو فریقوں نے قطر کی کوششوں سے اپنی جنگ میں چار دنوں کے لیے وقفہ کیا ہے۔ واضح رہے خطے کے علاوہ دنیا کے بہت سے ملکوں سے مکمل جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا لیکن امریکہ اور اہم یورپی ملکوں کے خیال میں مکمل جنگ بندی کا فائدہ حماس کو ہو سکتا تھا۔

اس لیے یہ ملک شروع سے جنگ میں وقفے کی بات کرتے تھے اب عملی طور پپر امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کی بات ہی تسلیم کی گئی اور چار دن کے لیے جنگ روکنے پر اتفاق ہوا ہے تاہم اسے جنگ بندی ہی کہا جا رہا ہے۔

اس کی بھی ہر طرف سے پذیرائی کرتے ہوئے اس امید اور خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس چار دن کی جنگ بندی یا وقفے کو لمبا کیا جائے۔ کئی ملکوں نے اسے متقل جنگ بندی بنانے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسئلہ فلسطینی کے حل کے لیے کوششوں کو سنجیدہ اور تیز کرنے پر زور دیا ہے کئی ملکوں نے دو ریاستی حل کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اردن

اردن نے یہی بات کی ہے کہ 'اس جنگ بندی کو غزہ میں جنگ کے خاتمے کی طرف ایک قدم بنایا جائے تاکہ فلسطینیوں کو بے گھر ہونے کے لیے ہدف بنانے کا سلسلہ رک سکے۔ ' اردن کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آنے والے اردنی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے ' ہم امید کرتے ہیں کہ جنگ میں چار دن کا وقفہ زیر محاصرہ پٹی پر لوگوں کو زیادہ سے زیادہ امداد پہنچ سکنے کا باعث بنے گا۔'

مصر

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ' قطر اور امریکہ کی کوششوں کے نتیجے میں انسانی بنیادوں پر جنگ روکنے کا خیر مقدم کیا کہ اس کی وجہ سے غزہ کی پٹی پر جنگ رک سکے گی۔ السیسی نے اس معاہدے کے نتیجے میں قیدیوں کی رہائی اور تبادلے پر اتفاق کی بھی پذیرائی کی۔

ترکیہ

ترک وزارت خارجہ نے اس معاہدے کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ نیز توقع ظاہر کی کہ اس معاہدے پر پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ ترک وزارت خارجہ نے بھی امید لگائی ہے کہ انسانی بنیادوں پر جنگ میں کیا جانے والا 'یہ وقفہ موجودہ جنگ کے مستقل خاتمے کا پیش خیمہ بھی بنے گا۔ یہ بھی امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ پائیدار امن کی راہ بنے گا جس پر چل کر دو ریاستی حل کی منزل ملے گی۔ '

برطانیہ

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا اور کہا 'یہ ایک انتہائی قدم ہے ان خاندانوں کے لیے جن کے افراد خانہ مغوی تھے۔ ان خاندانوں کے لیے ریلیف کا سامان ہو گا ، نیز اس معاہدے سے غزہ میں جاری بحران انسانی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش ہو سکے گی۔ ڈیوڈ کیمرون نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاہدے پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کریں۔ '

جرمنی

جرمن وزیر خارجہ اینا لینا نے اس معاہدے کو ایک بڑا 'بریک تھرو' قرار دیا۔ انہوں مغویوں کے پہلے بڑے گروپ کی رہائی کا ذکر کرتے ہوئے 'اس کی تحسین کی اور کہا یہ بڑی پیش رفت ہے۔ اگرچہ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ان پر گذرنے والی مصیبت کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔' اینا لینا نے کہا 'جنگ میں اس وقفے کو غزہ کے لوگوں کے لیے امداد فراہمی کے لیے اچھے طریقے سے استعمال ہونا چاہیے۔

چین

چین نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ سات اکتوبر سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کا باعث بنے گا۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا '۔'ہم اس عارضی جنگ بندی معاہدے پر متعلقہ فریقوں کے راضی ہونے کا خیر مقدم کرتے ہیں ' وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ کے مطابق 'یہ عارضی جنگ بندی انسانی بحران کے مصائب کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ اس کے نتیجے میں تصادم کی فضا میں کمی آئے گی۔ '

روس

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کہا ’کریملن اس معاہدے کو غزہ سے ایک عرصے بعد پہلی اچھی خبر کے طور پر دیکھتا ہے۔‘ ' ترجمان نے مزید کہا 'روس اور دوسرے بہت سارے ملک جنگ بندی یا ایک جنگی وقفے کے لیے کہہ رہے تھے۔ کیونکہ اس طرح کی جنگ بندی یا وقفے کے ذریعے ہی ایک پائیدار حل اور امن کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ '

فرانس

فرانس نے بھی اس عارضی جنگ بندی کی پذیرائی کی اور کہا امید ہے آٹھ فرانسیسی شہریوں کی واپسی بھی ممکن ہو سکے گی۔ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکروں نے کہا 'ہم بغیر تھکے ہوئے اور بے تابی کے ساتھ مغویوں کی رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں