اسرائیل حماس معاہدہ جارحیت کے خاتمے کی جانب پہلا قدم ہونا چاہیے: عرب وزرائے خارجہ

شہزادہ فیصل بن فرحان کی سربراہی میں مشترکہ وزارتی کمیٹی کی برطانوی وزیر خارجہ سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عرب وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی سیز فائر کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس میں توسیع کی جانی چاہیے اور یہ جارحیت کے مکمل خاتمے کی جانب پہلا قدم بننا چاہیے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی عرب، مصر اور اردن کے وزرائے خارجہ نے لندن میں میڈیا بریفنگ میں کہا کہ یہ معاہدے، جس میں قیدیوں کی رہائی اور تباہ حال غزہ کی پٹی میں امداد میں اضافہ شامل ہے، کے نتیجے میں بالآخر دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کی بحالی ہونی چاہیے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق کمیٹی نے اس موقع پر غزہ میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے حوالے سے قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی کے کردار کو سراہا جن کی کوششوں سے چار روز کے لیے انسانی بنیادوں پر عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ممکن ہو سکا۔

مشترکہ وزارتی کمیٹی نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور عالمی انسانی قانون کے حوالے سے متوازن کردار ادا کرے تاکہ فوری جنگ بندی ممکن ہو سکے علاوہ ازیں اس حوالے سے دیگر بین الاقوامی قراردادوں پرعمل درامد کیا جا سکے۔

عرب اسلامی مشترکہ وزارتی کمیٹی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی سربراہی میں بدھ کے روز برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون سے لندن میں ملاقات کی۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ انسانی امداد کو جاری رکھنا چاہیے اور اس میں توسیع کی جانی چاہیے اور اسے مزید قیدیوں کی رہائی سے نہیں جوڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہا اس معاہدے کے نتیجے میں اب جو بھی انسانی رسائی میں اضافہ ہوا ہے وہ برقرار رہنا چاہیے اور اس پر تعمیر کی جانی چاہیے۔

کمیٹی کے اجلاس میں مکمل طور پرامن کو بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس حوالے سے وزارتی کمیٹی کے ارکان نے مسئلے کے حل اور مستقل بنیادوں پر قیام امن کے لیے بین الاقوامی قراردادوں پرعمل درآمد کرنے پر زور دیا جس کے ذریعے فلسطینی عوام کو ان کا جائز حق دیا جاسکے اوروہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق اپنی آزاد اور خودمختار ریاست قائم کرسکیں جس کا درالحکومت القدس ہو۔

عرب وزرائے خارجہ زیادہ تر مسلم ممالک کے ایک رابطہ گروپ کی قیادت کر رہے ہیں جو غزہ جارحیت کے خاتمے اور اسرائیل فلسطین تنازعے کے مستقل حل کی طرف بڑھنے کے لیے اسرائیل کے بڑے اتحادیوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لابنگ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں