امریکہ میں ’خالصتان‘ کے حامی سِکھ رہنما کے قتل کا منصوبہ ناکام، دہلی سے احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی حکومت نے نیو یارک میں مقیم سِکھ علاحدگی پسند رہنما گُرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کا مبینہ منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔

برطانوی اخبار ”فنانشل ٹائمز“ نے بدھ کو نامعلوم اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکی حکومت نے ہندوستان کو ان خدشات پر وارننگ بھی جاری کی ہے اور واضح الفاظ میں بھارت کو بتا دیا ہے کہ وہ جانتے ہیں پنوں کو ختم کرنے کی ’سازش میں نئی دہلی ملوث ہے‘۔

تاہم اخبار کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ قتل کا مبینہ منصوبہ امریکی حکومت کی مداخلت کے بعد ناکام ہوا ہے یا فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ناکام بنایا ہے۔

مبینہ طور پر واشنگٹن نے ٹروڈو کے ستمبر کے بیان کے بعد پنوں کے قتل کی کوششوں کے بارے میں ”اتحادیوں کے وسیع گروپ“ کو مطلع بھی کیا ہے۔

گروپتونت سنگھ پنوں ایک امریکی اور کینیڈین شہری ہیں اور امریکہ میں قائم ”سکھس فار جسٹس“ نامی تنظیم کے سربراہ ہیں۔ بھارت ’خالصتان‘ تحریک کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے اور اسے ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ بھی قرار دے چکا ہے۔ بھارت نے سکھس فار جسٹس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ گُرپتونت سنگھ پنوں علاحدگی پسند سِکھ تحریک ’خالصتان‘ کے وکیل ہیں۔ ان کا نام حال ہی میں اُس وقت بھی سامنے آیا تھا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر انڈین حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

منگل کو انڈیا کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے گُرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف ایئر انڈیا فلائٹس کو مبینہ طور پر دھمکانے پر ایک مقدمہ بھی درج کیا ہے۔

گُرپتونت سنگھ پنوں نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ وہ امریکی حکومت کو ’انڈین ایجنٹس سے میری زندگی کو لاحق خطرات جیسے معاملات‘ کو دیکھنے کی ذمہ داری نبھانے دینا چاہتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’امریکی سرزمین پر ایک امریکی شہری کی جان کو خطرہ امریکہ کی خودمختاری کے لیے چیلنج ہے۔ مجھے بھروسہ ہے کہ صدر بائیڈن کی حکومت ایسے کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘

فنانشل ٹائمز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی پراسیکیوٹرز نے نیویارک ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک ملزم پر فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جس شخص کو اس قتل کے مبینہ منصوبے کے حوالے سے ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے وہ امریکہ سے پہلے ہی روانہ ہو چکا ہے۔

انڈین حکومت کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا گیا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی یہ رپورٹ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے اُس الزام کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں کینیڈا میں مقیم ایک سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں ہندوستانی حکومت کے ایجنٹس ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا۔

پنوں کی طرح نجار بھی علاحدہ سکھ ریاست خالصتان کے حامی تھے، جنہیں اس سال جون میں کینیڈا کے سرے میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

فنانشل ٹائمز نے پنوں کے حوالے سے یہ نہیں بتایا کہ آیا امریکی حکام نے انہیں مبینہ سازش کے بارے میں متنبہ کیا یا نہیں۔

لیکن پنوں نے کہا ہے کہ وہ ’امریکی حکومت کو بھارتی کارندوں کے ہاتھوں امریکی سرزمین پر میری جان کو لاحق خطرات کے معاملے پر جواب دینے دیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’امریکی سرزمین پر ایک امریکی شہری کو خطرہ امریکا کی خودمختاری کے لیے ایک چیلنج ہے، اور مجھے یقین ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اس طرح کے کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘

اس حوالے سے ہندوستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو سفارتی انتباہ کے علاوہ، امریکی وفاقی استغاثہ نے نیویارک کی ایک ضلعی عدالت میں کم از کم ایک مشتبہ شخص کے خلاف مہر بند فرد جرم بھی دائر کی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف اس بات پر بحث کر رہا ہے کہ آیا فرد جرم کو ان سیل کیا جائے اور الزامات کو عوامی کیا جائے یا کینیڈا کی جانب سے نجار کے قتل کی تحقیقات مکمل ہونے تک انتظار کیا جائے۔

اخبار نے مزید کہا کہ فرد جرم میں شامل ایک شخص کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ چھوڑ چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں