صومالیہ میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، سات لاکھ بے گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صومالیہ حکام نے اطلاع دی ہے کہ بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب نے 50 افراد کی جانیں لے لی ہیں اور تقریباً 700,000 افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے، جب کہ خدشہ ہے کہ منگل کو متوقع شدید بارشوں کے نتیجے میں صورت حال مزید خراب ہو جائے گی۔

صومالیہ میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ محمود معلم عبداللہ نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "سیلاب کی قدرت آفت کے نتیجے میں اب تک 50 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ 68,7235 افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔" انہوں نے خبردار کیا کہ 21 اور 24 نومبر کے درمیان متوقع بارشوں سے مزید سیلاب آسکتے ہیں جو موت اور تباہی کا باعث بن سکتے ہیں"۔

صومالیہ میں سیلاب کی صورتحال

ہارن آف افریقہ کے علاقے میں حالیہ ہفتوں میں شدید بارشیں اور سیلابی صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ ال نینو موسمیاتی رجحان سے منسلک ہے جس کی وجہ سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر انسانی امور (OCHA) نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ صومالیہ میں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد "ایک ہفتے کے اندر تقریباً دگنی ہو گئی،" جب کہ مجموعی طور پر 1.7 ملین افراد آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔

’اے ایف پی ‘ نے دفتر کے حوالے سے کہا کہ "کئی علاقوں میں سڑکیں، پل اور ہوائی اڈے کے رن وے کو بھی نقصان پہنچا، جس سے لوگوں کی نقل و حرکت اور رسد متاثر ہوئی اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا"۔

ہارن آف افریقہ کا خطہ آب و ہوا کے اتار چڑھاؤ کے لیے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہے اور یہ شدید ماحولیاتی مظاہر کا مشاہدہ کرتا ہے۔

یہ خطہ چار دہائیوں میں بدترین خشک سالی کا شکار رہا ہے۔ خشک سالی کے دوران بارشیں نہ ہونے سے فصلوں کی کاشت بند ہوگئی اور لاکھوں کی تعداد میں مویشی ہلاک ہوگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں