مصر کی سرکاری عمارت میں عجیب بُو نے خوف و ہراس پھیلا دیا

سرکاری کمپلیکس ’’ سمارٹ ولیج‘‘ میں کئی ملازمین کا دم گھٹنے لگا، ایمبولینسوں نے ہسپتالوں میں پہنچایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ایک بڑے سرکاری کمپلیکس "سمارٹ ولیج" سے نکلنے والی ایک عجیب اور گندی بدبو نے خوف و ہراس پھیلا دیا۔ کئی کمپنیوں کے ملازمین عمارت سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ کئی ملازمین کا دم گھٹنے لگا۔

مصری حکام کو قاھرہ کے جنوب میں شہر ’’السادس من اکتوبر'' میں ایک عجیب و غریب بدبو کے اخراج کی اطلاع ملی تو سول ڈیفنس کی ٹیمیں فوری طور پر اس مقام پر پہنچ گئیں۔ ایمبولینسوں نے متعدد ملازمین کو ضروری علاج کے لیے علاقے کے آس پاس کے ہسپتالوں میں پہنچایا۔ یہ وہ افراد تھے جن کا شدید دم گھٹ گیا تھا۔ شہری تحفظ نے ابو راوش کے علاقے سے ہوا میں تیز بدبو کی وجہ سے کچھ املاک کو بھی خالی کرا لیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک گیس کمپنی جس کا ہیڈ کوارٹر "سمارٹ ولیج" کے پیچھے ہے میں گیس کے بڑے ٹینک موجود تھے۔ کمپنی ان کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ ان ٹینکوں میں سے بدبو آرہی تھی۔

"سمارٹ ولیج" کی انتظامیہ نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ اس نے کمپلیکس کے ارد گرد واقع پیٹرو کیمیکل فیکٹریوں میں سے ایک میں صنعتی لیک ہونے کی وجہ سے ملازمین کو کمپلیکس سے نکل جانے کو کہا۔

"مصر گیس کمپنی" نے واضح کیا کہ "سمارٹ ولیج" اور اس اس کے آس پاس کے علاقوں میں کوئی گیس کا اخراج نہیں ہے۔ وسیع پیمانے پر بدبو ایسے مواد کے لیے مخصوص ہے جو قدرتی گیس میں شامل کیے جاتے ہیں۔

وزارت صحت نے "سمارٹ ولیج" کے اندر گیس کے اخراج کے الزام پر ایمبولینس سروس کے ردعمل کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ رپورٹ ملنے کے فوراً بعد 15 ایمبولینسیں روانہ کی گئیں جنہوں نے 19 زخمیوں کو شیخ زید سینٹرل ہسپتال منتقل کیا جن میں سے 11 مریضوں کو علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا اور ان کی صحت میں بہتری آئی اور 5 زخمیوں کو شیخ زید سپیشلائزڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں