فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے فعال تنظیم ' سمیدون ' جرمنی میں متحرک

' سمیدون ' اسلام پسند ' تنظیم کے خلاف چار جرمن ریاستوں میں اس کی تلاشی جاری: وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی کے وزیر داخلہ نے آگاہ کیا ہے کہ جرمنی کی چار وفاقی ریاستوں میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ' سمیدون ' کے خلاف تلاشی کے نام پر مہم شروع کر دی ہے۔

جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر نے اس بارے میں دیئے گئے بیان میں کہا ہے کہ ' اس اسلام پسند تنظیم کے خلاف ہماری مہم تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ ' خیال رہے جرمنی میں اس اسلام پسند تنظیم کو انتہا پسندی کی عینک کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا ' حماس کے ساتھ ساتھ ' سمیدون ' پر بھی پابندی لگا کر ہم نے پیغام دے دیا ہے کہ کیس بھی تشدد پسند جماعت یا گروہ کو بڑھاوا دینے کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا، جیساکہ حماس اسرائیل کے خلاف ایک تشدد پسند جماعت ہے۔

جرمنی میں وزیر داخلہ کے زیر قیادت ' سمیدون ' کے خلاف یہ کارروائی ان حالات میں شروع کی گئی ہے جب اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 14000 سے زائد فلسطینی بشمول تقریباً چھ ہزار فلسطینی بچوں اور تقریباً چار ہزار عورتیں ہلاک ہو چکنے پر دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں اسرائیلی جیلوں میں بھی ہزاروں قیدی سخت بری حالات میں کئی برسوں سے قید ہیں۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں وہ نظر بند ہیں جنہیں بغیر کسی مقدمے کے بار بار نظر بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد پھر نظر بند کر دیا جاتا ہے۔

اسی تشویش کی وجہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان بالآخر چار دن کے لیے جنگ بندی کی صورت پیدا کی جاسکی ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں