فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل-حماس تنازعہ پر بات چیت کے لیے اعلیٰ فرانسیسی سفارت کار بیجنگ میں موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانس کی اعلیٰ سفارت کار کیتھرین کولونا نے ایک مختصر دورے کے آغاز پر جمعہ کے روز بیجنگ میں چینی وزیرِ اعظم لی کیانگ سے ملاقات کی۔ اس دورے میں ہونے والی گفتگو اسرائیل-حماس کی جنگ کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان علمی اور ثقافتی تبادلوں کو گہرا کرنے پر مرکوز ہے۔

بیجنگ میں کولونا کی بات چیت اسی دن ہوئی جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی جس میں فلسطینی مزاحمتی گروپ جمعہ کی شام 13 یرغمالیوں کے پہلے گروپ کو رہا کرے گا۔

پیرس نے کہا ہے کہ کولونا اور ان کے چینی ہم منصب کے ایجنڈے میں شرقِ اوسط کا تنازعہ سرِفہرست ہوگا۔

ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے اس ہفتے کہا، ایران کے ساتھ "مضبوط تعلقات" کی وجہ سے "چین خطے میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا حامل ایک عنصر ہے"۔

انہوں نے مزید کہا، "اس تنازعہ میں ہم چین سے جس پہلی چیز کی توقع کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ان کوششوں میں شمولیت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہم کسی بھی علاقائی کشیدگی سے بچیں۔"

بیجنگ نے اس سال شرقِ اوسط میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے لیے اس نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخی مصالحت میں سہولت فراہم کی ہے اور اسرائیل-حماس جنگ بندی پر زور دینے کے لیے ایک ایلچی خطے میں بھیجا ہے۔

بیجنگ کے قلب میں واقع پیپلز پیلس کے فانوس تلے جمعہ کی صبح وزیرِ اعظم لی نے کولونا کا استقبال کیا جنہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے طور پر چین اور فرانس کی "عالمی ذمہ داریاں" مشترکہ ہیں۔

انہوں نے کہا، "دونوں ممالک کو "بڑے چیلنجوں کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے بالخصوص موسمیات، حیاتیاتی تنوع اور ایسی کوئی بھی چیز جو دنیا میں تناؤ کو کم کر سکے"۔

جواباً لی نے "تمام محاذوں پر چین-فرانس تعاون کے مثبت رجحان" کو نوٹ کیا۔

لی نے مزید کہا، "چین اور فرانس کے درمیان اس قریبی تعاون نے بہت سی مثبت توانائی بھی داخل کی ہے اور آج کی غیر یقینی دنیا کو مزید یقین فراہم کیا ہے۔"

کولونا اپنے ہم منصب وانگ یی کے ہمراہ جمعے کی سہ پہر پیکنگ یونیورسٹی میں تعاون کے دیگر شعبوں پر اعلیٰ سطحی چین-فرانس مکالمے کا دوبارہ آغاز کریں گی۔

2014 میں شروع ہونے والا گفتگو کا یہ سلسلہ وبائی مرض کے دوران رک گیا تھا۔ یہ گفتگو تعلیمی، سائنسی، ثقافتی اور کھیلوں کے تبادلے جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاحت سے متعلق مسائل اور صنفی مساوات کے سوالات پر ہے۔

کولونا شام کو مشترکہ پریس کانفرنس سے پہلے وانگ کے ساتھ باضابطہ دو طرفہ بات چیت کریں گی۔

پیرس نے کہا ہے کہ فرانس اور چین تعلیم، ثقافت، یونیورسٹیوں کے تبادلے اور صحت جیسے شعبوں میں کئی معاہدوں پر بھی دستخط کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں