فلسطینیوں کی مصر منتقلی ہماری ریڈ لائن ہے: عبد الفتاح السیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے زور دے کر کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بے گھری ایک ریڈ لائن ہے جسے مصر قبول نہیں کرتا اور اس کی کسی صورت بھی کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے آج جمعرات کے روز قاہرہ سٹیڈیم میں "مصر زندہ باد" کانفرنس میں اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اگر فلسطینی اپنی سرزمین چھوڑ دیتے ہیں تو وہ دوبارہ واپس نہیں جائیں گے۔ اس وقت عرب خطہ کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ عرب خطہ کئی دہائیوں سے خطرات سے دوچار ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مسئلہ فلسطین ایک خطرناک اور حساس موڑ پر آگیا ہے۔

اجتماعی سزا

السیسی نے اجتماعی سزا اور قتل عام کے طریقہ کار کو زمین پر مسلط کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا یہ اجتماعی سزا فلسطینی کاز کو ختم کرنے، فلسطینی عوام کی نقل مکانی اور زمین پر قبضے کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مصر محاصرے کے تحت 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے مصائب کو دور کرنے کے لیے سب سے زیادہ امداد فراہم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر فلسطینیوں کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کا خواہاں ہے۔

راہداری کبھی بند نہیں ہوئی

انہوں نے کہا کہ رفح کراسنگ کو کبھی بند نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی انسانی امداد کے لیے بند کیا جائے گا۔ تمام مصریوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے اقدامات میں حصہ لیا ہے۔ رضاکاروں کی طرف سے شروع کیا گیا کام ختم نہیں ہوا۔ غزہ میں 23 لاکھ فلسطینی محاصرے میں ہیں۔ انہیں تمام امدادی سامان اور انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ انہیں اس وقت پانی، ایندھن، خوراک اور طبی سامان میں کی قلت کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں