اسرائیل نے 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی کیا شرائط رکھیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں 48 روز کی جنگ کے بعد 49 ویں دن چار دنوں کے لیے جنگ بندی کی گئی۔ سیز فائر کے پہلے دن حماس نے 13 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا۔ اس نے ساتھ تھائی لینڈ کے 10 اور فلپائن کے ایک شہری کو بھی رہا کردیا۔ جواب میں اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 39 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کردیا۔ یہ فلسطینی القدس اورمغربی کنارے میں پہنچ گئے ہیں۔

Advertisement

فلسطینی قیدیوں کے کمیشن اور فلسطینی قیدیوں کے کلب نے جنگ بندی اور اسیران کے تبادلے کے معاہدے کے فریم ورک کے اندر رہا کیے جانے والے فلسطینیوں کی پہلی کھیپ کے ناموں کا اعلان بھی کردیا۔ فہرست میں شامل تمام افراد کا تعلق مغربی کنارے اور القدس سے تھا۔

اسرائیلی فوج کے حکام نے جن مرد اور خواتین قیدیوں کو رہا کیا جائے گا ان کے لیے شرائط بھی رکھی ہیں۔ اسرائیل نے جو شرائط پیش کی ان میں درج ذیل باتیں کی گئیں۔

پہلی شرط یہ ہے کہ رہا ہونے والے قیدی یا ان کا رشتہ دار پریس بیان نہیں دے گا۔ دوسری شرط یہ تھی کہ قیدی کا گھر والوں کے ساتھ جمع ہونا منع ہے۔ تیسری شرط یہ رکھی گئی کہ قیدیوں کی رہائی کی خوشی میں مٹھائی بانٹی جائے گی نہ ہی کسی قسم کا جشن منایا جائے گا۔ چوتھی شرط یہ رکھی گئی کہ شرائط کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں 70 ہزار شیکل کی ضمانت دی جائے گی۔

العربیہ کے نمائندے نے واضح کیا کہ فلسطینی قیدیوں کی فہرست میں 5 خواتین شامل ہیں جنہیں سزائیں دی گئی ہیں اور باقی بچے اور خواتین ہیں جنہیں انتظامی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔

چار دن تک جاری رہنے والے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت حماس پہلے مرحلے میں 50 اسرائیلی خواتین اور بچوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے اسرائیل تقریباً 150 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں