امریکا اپنے فوجی اڈوں پر حملوں کا سخت رد عمل دے سکتا ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام اور عراق میں امریکی قیادت میں ’داعش‘ مخالف اتحاد کے اڈوں پر ہونے والے ایران نواز گروپوں کے حملوں اور ان کے رد عمل کے بارے میں ماہرین نے امریکی رد عمل کو محتاط قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی کارروائی میں امریکا کی طرف سے تل ابیب کی حمایت کے رد عمل میں شام اور عراق میں امریکی اڈوں پر درجنوں حملے کیے گئے ہیں۔ ان حملوں میں ایران نواز ملیشیائیں ملوث بتائی جاتی ہیں۔

لیکن یہ حملے کب تک جاری رہیں گے؟ کیا یہ ’داعش‘ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں کو متاثر کرسکتے ہیں؟۔

اس تناظر میں ایک ریٹائرڈ امریکی کرنل اور بین الاقوامی اتحاد کے سابق ترجمان مائلز کیگنس نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ "ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے حملوں پر واشنگٹن کا محدود فوجی ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ وائٹ ہاؤس مکمل آپریشن شروع کرنے سے گریزاں ہے اورہ وہ محتاط جوابی کارروائی کررہا ہے‘‘۔

"امریکی رد عمل زیادہ سخت ہو سکتا ہے"

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر یہ ملیشیا خطے میں امریکی سفارتی تنصیبات کو نشانہ بناتی ہیں یا امریکی فوجیوں کو ہلاک کرتی ہیں تو امریکی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے اور زیادہ پرتشدد ہو سکتا ہے۔"

لیکن انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ وقت میں واشنگٹن شام اور عراق میں ان ملیشیاؤں کو براہ راست سخت ضربیں پہنچانے کے لیے وسیع بمباری کی مہم شروع نہیں کرنا چاہتا۔

امریکی کرنل جنہوں نے تین سال تک عراق میں امریکی فوج میں خدمات انجام دیں، وقت نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک ریسرچ اینڈ اسٹڈیز کے لیے کام کرتے ہیں نے کہا کہ ’’ان ملیشیاؤں کو امریکی فضائی حملوں سے نشانہ بنانا انھیں مزید کارروائیوں سے روک سکتا ہے‘‘۔

امریکی فضائیہ

امریکی سیاسی اور سکیورٹی تجزیہ کار ایرون اسٹین نے کہا کہ "امریکا شام اور عراق میں اپنے اڈوں کی حفاظت کے لیے فضائی طاقت کے استعمال سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا‘‘۔

سٹین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "بین الاقوامی اتحاد کے اڈوں پر ان حملوں کے اثرات محدود ہیں۔ خاص طور پر چونکہ ملیشیاؤں کے ذریعے استعمال کیے جانے والے پیچیدہ اور اسمارٹ نہیں روایتی ہیں۔ اتحادی فوج ان کے داغے گئے راکٹوں اور ڈرونز کو مار گراتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تہران خطے میں اپنے ایجنٹوں کو روک نہیں دیتا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں