جنگ کا اگلا مرحلہ: اسرائیل کی نظریں حماس کے گڑھ خان یونس اور حماس قیادت پر مرکوز

غزہ جنگ کا اگلا مرحلہ کتنا مشکل اور پیچیدہ ہوسکتا ہے، کیا اسرائیل حماس کو کچلنے اور یرغمالیوں کو بہ حفاظت بازیاب کرانے میں کامیاب ہوسکے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی پر حماس ۔ اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے بارہا عزم کیا ہے کہ اس کا مقصد غزہ میں یرغمال بنائے گئے تمام قیدیوں کو آزاد کرنے کے علاوہ "حماس کو کچلنا" اور غزہ میں موجود حماس کے تمام رہ نماؤں کو قتل کرنا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ مختصر جنگ بندی کا مقصد حماس کو ڈھیل دینا نہیں۔ اسرائیل حماس کو ختم کیے بغیر یہ جنگ ختم نہیں کرے گا۔

غزہ میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

حماس کی قیادت تقریباً 15 ارکان پر مشتمل ہے جو غزہ، دوحا اور بیروت میں مقیم ہیں۔ وہ اپنے فیصلے اتفاق رائے کی بنیاد پر کرتے ہیں، لیکن اس وقت تحریک کی جانب سے جاری جنگی حکمت عملی غزہ تک محدود ہو چکی ہے اور یہ حکمت عملی غزہ کی پٹی میں حماس کے صدر یحییٰ السنوار کے گرد گھومتی ہے۔ گویا غزہ میں ہونے والے تمام اقدامات آخر کار یحیی السنوار پر ختم ہوتے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل کا خیال ہے کہ السنوار، القسام بریگیڈ کے سربراہ محمد الضیف اور چند دیگر سینیر رہ نما حماس کی فوجی کارروائیوں کو منظم کررہے ہیں۔

قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کرنے والوں میں سے بہت سے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس معاملے میں بھی السنوار ہی حتمی فیصلہ ساز ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت،مذاکرات میں تاخیر اور بعض نئے مطالبات نے ماضی میں کئی بار بات چیت کے عمل کو ناکام بنا دیا۔

جنگ بندی میں توسیع؟!

یحیی السنوار مستقبل میں مزید قیدیوں کی رہائی کے امکان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا تاکہ جنگ بندی کو چار دنوں سے آگے بڑھایا جا سکے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ السنوار کی قیدیوں کی رہائی کی حکمت عملی کافی پیچیدہ ہے۔ وہ ایک طرف جنگ بندی میں توسیع کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور دوسری طرف اسرائیلی جیلوں میں سنگین نوعیت کے الزامات کے تحت قید فلسطینیوں کی رہائی کے لیے یرغمالیوں کے ذریعے دباؤ ڈالیں گے۔

دوسری جانب اسرائیل غزہ کی پٹی پر اپنے حملے کے دوسرے مرحلے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کی توجہ جنوب میں خاص طور پر خان یونس پر ہے جسے حماس کا غزہ میں گڑھ کہا جاتا ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ایک معروف اسرائیلی تجزیہ کار اور محقق ایہود یعاری کے مطابق اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ السنوار اب غزہ کے جنوبی حصے میں حماس کے سرنگ نیٹ ورک میں سینیر رہ نماؤں اور باقی قیدیوں کے ساتھ ہے۔

یعاری نے کہا کہ" اگر خان یونس پر حملہ کرنے سے پہلے لڑائی رک جاتی ہے تواس سے حماس ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے گی۔"

لہٰذا اسرائیل کی طرف سے شمال کو جنوب سے الگ تھلگ کرنے اور حماس کو سرنگوں سے نکالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دوسری طرف اسرائیل خان یونس پر ایک بڑا حملہ کرنا چاہتا ہے تاکہ حماس کی قیادت سرنگوں سے باہر نکل کر لڑنے یا ہتھیار ڈالنے پرمجبور کردے۔

شمالی غزہ کی نسبت جنوبی غزہ میں لڑائی زیدہ مشکل

سابق اسرائیلی جنرل اور قومی سلامتی کے مشیر جیورا ایلینڈ کا کہنا ہے کہ ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کے جمع ہونے کی وجہ سے جنوب میں لڑائی شمال کی نسبت زیادہ مشکل ہوگی۔ اس سے اسرائیل پر جنگ روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے سرنگوں کے نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ وہاں قیدیوں کی موجودگی معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق حماس کے قریب تیس ہزار جنگجو ہیں۔ تاہم ایک سینیر اسرائیلی فوجی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں اپنی حالیہ کارروائیوں کے دوران حماس کے رہ نماؤں کو شدت کے ساتھ نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں حماس کی جنگجوؤں کو کمانڈ کرنے کی صلاحیت میں خلل پڑا۔ اس کے علاوہ تین ہزار سے دس ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

سرنگوں سے نکالنا

متعدد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حماس کو ایندھن، پانی اور خوراک سے محروم کرنے سے اس کے جنگجو سرنگوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

لیکن السنوار کے پاس بقیہ قیدیوں کا کارڈ ہے کہ وہ اپنے اور دیگر لیڈروں جیسے محمد ضیف کے لیے غزہ سے محفوظ انخلاء یا دوسری جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔

اس تناظر میں انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں اسرائیل- فلسطینی امور کے سینیر تجزیہ کار میرو زونزین نے وضاحت کی کہ اسرائیل کو حماس کے سینیر رہ نماؤں کو قتل کرنے یا باقی قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو بالآخر فیصلہ کرنا ہو گا آیا وہ تمام یرغمالیوں کو واپس کرے گا یا السنوار اور ضیف کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ "نیتن یاہو واقعی حماس کے تمام رہ نماؤں کو قتل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن اسرائیل آخر میں حماس کو تباہ کرکے تمام یرغمالیوں کو زندہ بازیاب کرنے کے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں