سیاہ فام جارج فلائڈ کے قتل میں سزا یافتہ سفید فام چاقو گھونپے جانے سے زخمی

چاقو گھونپنے کا واقعہ جیل میں پیش آیا، زخمی حالت میں ہسپتال منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائڈ کے قاتل کو جیل میں چاقو گھونپ دیا گیا۔ قاتل سفید فام پولیس اہلکار جارج فلائڈ کے بہیمانہ قتل کے سلسلے میں سزائے قید بھگت رہا ہے۔ اس سفید فام امریکی پولیس اہلکار نے سیاہ فام شہری کو بڑے ہی تحقیر آمیز ظالمانہ انداز میں اس گردن گھٹنے سے دبا دی تھی۔ سیاہ فام سڑک کنارے مارا گیا تھا۔

سال 2020 میں اس سفید فام نے سیاہ فام شہری جارج فلائڈ کی گردن کو کافی دیر گھٹنے سے دبائے رکھا۔ حتیٰ کہ وہ یہ کہتے کہتے تڑپتا رہا 'مجھے سانس نہیں آرہی، مجھے سانس نہیں آرہی، مجھے سانس لینے دیجیے۔' مگر اس سفید فام نے ایک نہ سنی اور سیاہ فام کی موت واقع ہو گئی۔

اب جمعہ کے روز سزا یافتہ سفید فام قاتل ڈیرک چاووین کو جیل میں کسی نے مبینہ طور پر چاقو مار دیا۔

امریکی 'فیڈرل بیورو آف پرزنرز ' نے تصدیق کی ہے اس پر جیل میں حملہ کیا گیا۔ تاہم واقعے کی تصدیق کرنے کے باوجود امریکی جیل کے محکمے نے اس کا نام ظاہر نہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ واقعہ جنوب مغری امریکی ریاست ایریزونا کی جیل میں پیش آیا ہے۔ جیل ملازمین نے فوری طور پر اسے زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے اس سفید فام قاتل کو 2021 میں عدالت نے 22 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ جارج فلائڈ کے اس بہیمانہ انداز میں قتل کے بعد امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

بعد ازاں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ غیر قانونی طریقے سے اور امتیازی انداز میں سیاہ فام شہریوں کے خلاف اقدامات کا ارتکاب کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں