مشرق وسطیٰ

ڈبلیو ایچ او، صلیب احمر غزہ کے ہسپتالوں سے زخمیوں اور طبی عملے کے انخلاء کے لیے کوشاں

شمالی غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی بارے اسرائیلی گارنٹی کے سوالوں سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے سب سے زیادہ متاثرہ اہل غزہ کے لیے سرگرم اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی طرف سے مختلف قسم کے بیانات آ رہے ہیں۔ جس سے ان کے رجحانات کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور ان کا حالات کا بھی جو اسرائیل فوج کی وجہ سے درپیش ہیں۔

تاہم فلسطین میں اس سے ہٹ کر یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ یہ ادارے اسرائیل کی اگلے مرحلے کی تیاریوں میں بالواسطہ مدد کا ذریعہ بن رہے ہیں اور انخلاء پر ہی 'فوکس' کرتے نظر آتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک ترجمان نے غزہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کی بہتری اور انہیں تحفظ دینے کے لیے کوئی اپیل کرنے کے بجائے ہسپتالوں سے زخمیوں اور مریضوں کے انخلا کے علاوہ طبی عملے کے بھی انخلا پر زور دیا ہے۔

جمعہ کے روز ترجمان نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت شمالی غزہ کے ہسپتالوں سے جلد سے جلد اور مزید میں انخلا کے لیے کام کر رہا ہے۔ ' ترجمان نے ان ہسپتالوں بشمول الشفاء ہسپتال میں مریضوں، زخمیوں اور ہسپتالوں کے عملے کے لیے خطرات کا ذکر کیا۔

ڈبلیو ایچ او ترجمان کرسچئین لنڈمئیر نے کہا 'ہم الشفاء ہسپتال میں موجود 100 کے قریب زخمیوں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے ابھی تک موجود طبی عملے کے تحفظ کے لیے بہت زیادہ تشویش میں مبتلا ہیں'۔

اطلاعات ہیں کہ غزہ کی وزارت صحت عالمی ادارہ صحت کی کارکردگی اور تعاون سے مایوس ہو کر اب اس کے ساتھ اپنے تعاون کو معطل کرنے کا سوچ رہی ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت کی ترجمان نے ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یہ اسی طرح کی صورت حال بن رہی ہے کہ 'انروا' نامی ایک اور ادارے پر حماس نے الزام لگایا تھا کہ یہ اسرائیلی فوج کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ملی بھگت سے فلسطینیوں کو غزہ سے انخلاء کے لے مجبور کر رہا ہے۔ تاہم 'انروا' نے اس کی تردید کی تھی۔

اب عالمی دارہ صحت ہسپتالوں سے زخمیوں اور مریضوں کے انخلاء کے لیے کوشاں ہیں! حتیٰ کے ہسپتالوں کے طبی عملے کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاریوں اور پوچھ گچھ سے بھی بچانے کی کوشش میں نہیں ہے۔

البتہ 'ڈبلیو ایچ او' سمیت دیگر یو این ایجنسیز بھی جنگ بندی کے دوران امدادی کاروائیوں میں تیزی کی اپیل کر رہی ہیں۔

ادھر' اوچھا' کی ترجمان جین لائرکی نے کہا ہے'اقوام متحدہ تصدیق کر سکتا ہے کہ میں امدادی سامان کے ساتھ ٹرکوں کی رفح کے راستے غزہ میں آمد کے لیے کہہ رہی ہوں۔'

ان سے جب یہ پوچھا گیا کیا اقوام متحدہ کو اسرائیل کی طرف سے گارنٹی دی گئی ہے کہ وہ امدادی سامان شمالی غزہ میں بھی بھجوانے دے گا؟

ترجمان 'اوچھا' نے کہا 'ہم اپنا کام امید اور توقعات کی بنیاد پر کرتے ہیں،ہم ا ہر اس جگہ پہنچیں گے جہاں امداد کی ضرورت ہوگی۔' ترجمان اوچھا نے اسرائیل کی گارنٹیوں کا سوال خوبصورتی کے ساتھ ٹال دیا۔

بین الاقوامی صلیب احمر کی ترجمان ٹوماسو ڈیلا لونگا ایمبولینسز کا ایک قافلہ لے کر الاھلی ہسپتال گیا تاکہ وہاں سے زخمیوں اور مریضوں کا انخلاء ممکن بنایا جا سکے۔ ترجمان نے امید ظاہر کی جنگ بندی میں وقفے کے دوران غزہ کے تمام علاقوں بشمول شمالی غزہ تک رسائی مل جائے گی۔'

لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان ہسپتالوں کو ادویات کی فراہمی اور طبی آلات یا تحفظ کی فراہمی کے بجائے اقوام متحدہ کے سبھی اداروں کی توجہ ان سے زخمیوں اور طبی عملے لوگوں کو نکالنے پر ہے۔

جس سے سے خدشہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک طرح سے اس خطرے کا اظہار ہے کہ جنگ کے اگلے مرحے میں اسرائیل ان ہسپتالوں کو پھر سے بمباری کا نشانہ بنایا ئے گا تاکہ غزہ میں زخمیوں کے رک سکنے کا جواز ہی باقی نہ رہے۔

تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ جنگ بندی کے اسرائیلی اہداف میں بعض بین الاقوامی ادارے بھی پوری طرح شریک ہیں۔ واضح رہے اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان رئیر ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے جمعہ کے روز ہی اعلان کیا ہے کہ 'جنگ بندی کے بعد جنگ کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا اور اس وقت اس اگلے مرحلے کی تیاری کی جارہی ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں