وزرائے اعظم نے مخالفت کیوں کی؟ اسرائیل نے بیلجیئم اور سپین کے سفیروں کو طلب کرلیا

حقائق تصدیق ٹرینڈنگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر رفح کراسنگ کے سامنے ایک پریس کانفرنس میں اپنے ملکوں کے وزرائے اعظم کے بیانات کی وجہ سے سپین اور بیلجیئم کے سفیروں کو طلب کر لیا۔

بیلجیئم کے وزیر اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں شہریوں کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا کہ پٹی کی تباہی ناقابل قبول ہے۔ بیلجیئم کے وزیر اعظم نے رفح کراسنگ کے سامنے جمعہ کو مزید کہا کہ حماس کو تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے غزہ میں عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ غزہ میں موجودہ جنگ بندی کافی نہیں اور اب مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یورپی یونین ایسا نہیں کرتی ہے تو سپین فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خود فیصلہ کر سکتا ہے۔ سپین اور بیلجیئم کے وزرائے اعظم غزہ کی پٹی میں طبی اور خوراک کی امداد پہنچانے کے لیے رفح رفح کراسنگ تک پہنچے۔ مصری صدر عبدالفتاح سیسی نے سپین اور بیلجیئم کے وزرائے اعظم کے ساتھ دورہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں