’امریکی عہدیدار کے ہاتھوں توہین آمیزسلوک نے اندر توڑ دیا، مسکراہٹ بھی بھول گیا ہوں‘

اوباما کے مشیر کے ہاتھوں توہین آمیز رویے کا سامنا کرنے والے مصری نے خاموشی توڑ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا میں نیویارک کے شہر مین ہٹن میں چند روز قبل سابق صدر باراک اوباما کے مشیر اسٹورٹ سیلڈووٹز کے ہاتھوں توہین آمیز رویے کا سامنا کرنے والے مصری ریڑھی بان نے خاموشی توڑ دی ہے۔

اوباما کے مشیر کی طرف سے نسل پرستانہ اور ہتک آمیز برتاؤ کا سامنا کرنے والے مصری محمد حسین نے بتایا کہ ’میں اس واقعے سے اندر سے ٹوٹ کر رہ گیا ہوں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اب میں پہلے کی طرح گاہکوں کو دیکھ کر مسکرانے کے قابل نہیں رہا۔

محمد حسین نے نشاندہی کی کہ وہ 5 سال پہلے امریکا آیا تھا۔ میں ایک سال سے ریڑھی پر کام کر رہا ہوں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اس نے نفرت انگیز واقعے کا سامنا کیا۔

درایں اثنا ریڑھی کے مالک مصری اسلام مصطفی نے وضاحت کی کہ میں یہ سن کر حیران رہ گیا کہ ایک شخص کو امریکا میں اہم عہدے پر رہا ہے نے ہمارے ایک ساتھی کے ساتھ توہین آمیز برتاؤ کیا ہے۔ یہ بات حیران کن تھی کہ توہین آمیز سلوک کرنے والا شخص امریکی محکمہ خارجہ کا سابق اہلکار ہے اور وہ باراک اوباما کے عہد میں امریکی قومی سلامتی کونسل میں جنوبی ایشیائی امور کا ذمہ دار رہ چکا ہے۔

توہین آمیز رویے کی تکرار

انہوں نے کہا کہ 64 سالہ سیلڈووٹز 7 اکتوبر سے تین الگ الگ واقعات میں ان کی فوڈ ریڑھیوں میں اس کے ورکروں کو ہراساں کرچکا ہے۔

سلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہا اس نے ہراساں کرنے کے پہلے اور دوسرے واقعات کے بارے میں دو بار پولیس کو شکایت کی، لیکن پولیس نے "آزادی اظہار" کے بہانے سیلڈووٹز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

انہوں نے اس واقعے کے بعد اظہار رائے کی آزادی اور نفرت انگیز تقریر کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم یہاں کسی سے سیاست پر بات نہیں کرتے، لیکن ایک سابق اہلکار نے آکر میری کارٹ میں موجود ایک نوجوان ملازم کو ہراساں کیا"۔

نفرت اور بغض کی بدترین مثال

نیویارک پولیس نے جمعرات کو سابق اوباما انتظامیہ کے اہلکار سٹوورٹ سیلڈووٹز کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس کی گرفتاری حال ہی میں سوشل میڈیا پر فوڈ سٹال پر کام کرنے والے ایک مسلمان شخص کو ہراساں کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

وائرل ویڈیو میں مین ہیٹن میں سائیڈواک پر سیلڈووٹز کو ایک مسلمان شخص کو بار بار ہراساں کرتے اور یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے: ’اگر ہم نے چار ہزار فلسطینی بچوں کو مارا ہے تو یہ ناکافی ہے۔‘

بدھ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں سابق اوباما انتظامیہ کے اہلکار سٹوورٹ سیلڈووٹز نیویارک میں فوڈ سٹال پر کام کرنے والے ایک مسلمان شخص کو بار بار ہراساں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اگر ہم نے چار ہزار فلسطینی بچوں کو مارا ہے تو یہ ناکافی ہے‘۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سٹوررٹ سیلڈووٹز متعدد بار فوڈ سٹال پر جا کر مسلمان شخص کو ہراساں کرتے ہیں اور اسلام مخلاف کلمات بار بار دہراتے ہیں جس کے مقابلے میں سٹال پر کام کرنے والا شخص اسے بار بار وہاں سے جانے کے لیے کہتا ہے۔

تاہم سیلڈووٹز جانے کے بجائے مسلمان شخص کو اکسانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں: ’تم دہشت گرد ہو اور دہشت گردی کی حمایت کرتے ہو۔‘

سٹوررٹ سیلڈووٹز امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ وابسطہ رہ چکے ہیں اور سابق صدر براک اوباما کی قومی سلامتی کونسل میں جنوبی ایشیا ڈائریکٹوریٹ کا حصہ رہ چکے ہیں۔

سیلڈووٹز نے ڈبلیو این بی سی ٹیلی وژن کو بتایا تھا: ’میں نے وہ باتیں (اس شخص) کو دہشت گردی کی حمایت پر کی تھیں اور میرے خیال میں وہ ٹھیک ہیں۔‘

تاہم ویڈیو میں مسلمان شخص کوئی متنازع بات کرتے سنائی نہیں دیتے بلکہ اوباما کے سابق مشیر سے کہتے ہیں، ’میں یہ نہیں سنوں گا،‘ اور ان کو جانے کا کہتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں