امریکی بحری جہازکے آپریشن پرچین اورامریکہ کے درمیان الزامات کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین اور امریکہ میں ہفتے کے آخر میں متنازعہ بحیرۂ جنوبی چین کے معاملے پر الزامات کا تبادلہ ہوا جب چین کی فوج نے کہا کہ اس نے ایک امریکی جنگی جہاز کو بھگا دیا تھا جس کے بارے میں امریکی بحریہ نے کہا کہ وہ ایک معمول کے فریڈم آف نیوی گیشن آپریشن پر تھا۔

ہفتے کے روز چینی پیپلز لبریشن آرمی سدرن تھیٹر کمانڈ کے آفیشل وی چیٹ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے مطابق چینی فوج نے امریکی میزائل شکن بحری جہاز کو "ٹریک، مانیٹر اور خبردار" کرنے کے لیے اپنی بحری اور فضائی افواج کو تعینات کیا۔

امریکی بحریہ نے اتوار کو کہا کہ ہوپر نے "بین الاقوامی قانون کے مطابق پیرسل جزائر کے قریب بحیرۂ جنوبی چین میں بحری نقل و حرکت کے حقوق پر زور دیا ہے۔"

چین تقریباً پورے جنوبی بحیرۂ چین پر دعویٰ کرتا ہے جو جہازوں سے چلنے والی 3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی سالانہ تجارت کا ایک راستہ ہے اور اس کے کچھ حصوں پر فلپائن، ویت نام، انڈونیشیا، ملائیشیا اور برونائی بھی دعویدار ہیں۔ 2016 میں ثالثی کی مستقل عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ چین کے دعووں کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی۔

فلپائنی اور امریکی افواج کے مشترکہ گشت کا حوالہ دیتے ہوئے بیجنگ نے منیلا پر بحیرۂ جنوبی چین میں گشت کے لیے غیر ملکی افواج کو بھرتی کرنے کا الزام لگایا جس کے چند دن بعد فلپائن اور آسٹریلیا نے ہفتے کے روز سمندر میں اپنا پہلا مشترکہ سمندری اور فضائی گشت شروع کیا۔

اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے واقعے کے بارے میں چین نے کہا، "یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ بحیرۂ جنوبی چین میں 'سلامتی کے خطرات پیدا کرنے والا' ملک ہے۔"

7ویں امریکی بحری بیڑے کی نائب ترجمان لیفٹیننٹ کرسٹینا وائیڈمین نے ایک ای میل بیان میں کہا: "دعویدار کی شناخت سے قطع نظر امریکہ دنیا بھر میں حد سے زیادہ سمندری دعووں کو چیلنج کرتا ہے۔"

"بحیرۂ جنوبی چین میں غیر قانونی اور وسیع سمندری دعوے سمندروں کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔"

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس ماہ کے شروع میں امریکہ اور چین نے سمندری مسائل بشمول متنازعہ بحیرۂ جنوبی چین پر بات چیت کی جہاں امریکہ نے ان چینی اقدامات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جو اس کی نظر میں "خطرناک اور غیر قانونی" ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں