اسرائیل حماس جنگ مستقل خاتمہ چاہیے: سپین میں منعقدہ کانفرنس میں مطالبہ

کسی کا خوف ہولناکی کا جواز نہیں بن سکتا: جوزپ بوریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل اور حماس کی جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد سپین کے دارالحکومت بارسلونا میں ہوا ہے۔ کانفرنس میں یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے وفود شریک ہوئے۔

کانفرنس کی مشترکہ صدارت یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل اور اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کی۔

واضح رہے اسرائیلی نمائندے نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی ہے۔ میزبان ملک سپین کے وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی ہی مشرق وسطیٰ میں امن لانے کے لیے ممکنہ طور پر واحد قابل بھروسہ شراکت دار ہے۔

وزیر خارجہ سپین نے کانفرنس کے آغاز سے پہلے سعودی وزیر خارجہ کے زیر قیادت آئے عرب اور اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے وفد سے ملاقات کی ہے۔ عرب اور اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کا وفد پچھلے کئی دنوں سے مختلف اہم ملکوں کے دورے کر چکا ہے تاکہ غزہ میں جاری صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے متوجہ کر سکے۔

عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کے اس مسلسل دورے کے حوالے سے سپین پانچویں کڑی ہے۔ اس سے قبل چین، روس، برطانیہ اور فرانس میں ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

اسرائیل کی اس کانفرنس میں عدم شرکت کو یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے بہت محسوس کیا۔ بوریل نے کہا 'اسرائیل کی غیر حاضری پر افسوس ہے۔'

یورپی رہنما نے حماس کی اسرائیل پر حملے کے حوالے سے مذمت کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی کہا 'اسرائیل کو غزہ پر حملے مستقلاً بند کرنے چاہییں کہ غزہ میں 5000 سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔'

جوزپ بوریل نے اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا 'کسی خوف کو ہولناکی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا ۔' ان کا کہنا تھا ' اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن یورپ اور بحر متوسط کی کمیونٹی اور اس سے آگے تک کے لوگوں کے لیے ضرورت بن چکا ہے۔'

اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ' نے کہا بات چیت سے عرب دنیا اور یورپ کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہاں کانفرنس میں شریک وفود مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم کرتے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا 'مگر دو ریاستی حل محض باتوں کا موضوع ہی نہیں رہ سکتا، ہماری یورپی دوستوں کو اپنا اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔'

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا 'مسلسل جنگ میں توسیع سے کسی کی اب تکلیف میں کوئی نیا اضافہ نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے نتیجے میں صرف تباہی بڑھے گی، انتہا پسندی بڑھے گی اور تصادم کی وجہ سے مزید فلسطینیوں کی جانیں جائیں گی۔'

انہوں نے یہ بھی کہا 'جب سے جنگ شروع ہوئی ہے ہم شہریوں کو نشانہ بنانے کی دونوں طرف سے کوشش کی مذمت کر رہے ہیں۔ لیکن جنگ جاری رہنے سے 'علاقائی سلامتی کو خطرہ ہو گا، یہ خطرہ اسرائیل کے لیے بھی ہو گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں