ایران کا اسرائیل کو غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کے خلاف انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی آخری دن میں داخل ہو گئی ہے تو ایران نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ فوجی آپریشن شروع کیا تو اس کے نتائج ہوں گے۔

چار روزہ جنگ بندی منگل کے روز ختم ہونے والی ہے تو حماس نے تؤقف بڑھانے اور مزید یرغمالیوں کو رہا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

جمعے کو شروع ہونے والے تؤقف کے دوران درجنوں اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کر دیا گیا اور بدلے میں اسرائیل نے 100 سے زائد فلسطینیوں کو رہا کیا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "صہیونی حکومت کی فوجی انداز میں واپسی کا یقیناً جواب دیا جائے گا۔"

کنعانی نے کہا، "مزاحمتی گروپس نے یہ دکھایا ہے کہ وہ خاموش نہیں رہیں گے، وہ مظلوم فلسطینی قوم کی حمایت کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے اور یہ کہ ان کی نظر میں امریکی حکومت بحران کا ایک حصہ ہے۔"

انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ میں جنگ کا جاری رہنا اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت "خطے میں تنازعات، عدم استحکام، عدم تحفظ اور ممکنہ طور پر خطے میں جنگ کے دائرہ کار میں توسیع کا باعث بن سکتی ہے۔"

انہوں نے کہا، ایران چاہتا ہے کہ موجودہ جنگ بندی مستحکم شکل" اختیار کرے تاکہ اسرائیلی "جارحیت" کی تکرار سے بچا جا سکے۔

کنعانی نے مزید کہا، "ہمارے پاس موجود معلومات کے مطابق قطری حکومت جنگ بندی کے حوالے سے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ موجودہ جنگ بندی مستحکم ہو گی۔"

7 اکتوبر کے حملوں کے بدلے میں اسرائیل نے حماس کو تباہ کرنے کا عزم کیا ہے جس کی غزہ پر حکومت ہے۔ اسرائیلی حکام کہتے ہیں کہ ان حملوں میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

فلسطینی علاقے میں حکام کے مطابق اسرائیل کی فضائی اور زمینی بمباری مہم میں غزہ میں تقریباً 15,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔

ایران نے سات اکتوبر کے حملوں کی تعریف کی تھی جبکہ اس کی منصوبہ بندی یا اس پر عمل درآمد میں کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کیا۔

تہران اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اس نے فلسطینی تحریک کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو بنایا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں