بھارت کے عام انتخابات قریب، سائبر سپیس میں ہندو مسلم کشیدگی کا آغاز ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سات اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے چند گھنٹے بعد حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے 17 ہندوستانی ہندوؤں کے ناموں کی فہرست پر مبنی ایک واٹس ایپ پیغام ہندوستان میں وائرل ہوا جس پر خوفناک ردعمل سامنے آیا۔ لیکن فہرست جعلی تھی – تو کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔

ہندوستان کی مسلم اقلیت کے بارے میں آن لائن غلط معلومات کو دستاویزی شکل دینے اور حقائق کی جانچ کرنے والے محققین نے کہا کہ اگلے ہفتوں میں اسرائیل اور فلسطینی گروپ کے درمیان تنازعے کے حوالے سے سینکڑوں پیغامات ہندوستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تیزی سے پھیلتے گئے۔

ان میں سے بہت سے پیغامات میں ہندوؤں کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اگلے سال کے انتخابات میں اقتدار سے محروم ہو جاتی ہے تو انہیں مسلمانوں سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

مشرقی ہندوستانی ریاست جھارکھنڈ میں ایک خودمختار محقق بھرت نائک نے کہا، "ہر مقامی اور عالمی واقعے کو یہ پیغام دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ مسلمان برے ہیں اور ہندوؤں کو ڈرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی موجودہ واقعہ نہ ہو تو ماضی کے واقعات کو غلط تصویروں اور ویڈیوز کے ساتھ ری سائیکل کیا جاتا ہے، یہ کہنے کے لیے: اگر ہندوؤں کو محفوظ رہنا ہے تو بی جے پی کو ووٹ دیں۔"

انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک ڈائیلاگ تھنک ٹینک اور ایک غیر منافع بخش تنظیم اینٹی ڈیفے میشن لیگ کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور ایکس پر سات اکتوبر سے دنیا بھر میں اسلامو فوبک اور سام دشمنی پر مبنی نفرت انگیز تقریر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر مارک اوون جونز نے کہا، "تنازعات اور انتخابات ہمیشہ اس قسم کا بیانیہ پیدا کرتے ہیں۔ ریاستی عناصر تفرقہ انگیز بیان بازی اور سنسنی خیز غلط معلومات کو اپنے مقاصد کےلیے استعمال کرتے ہیں۔"

بی جے پی کے قومی ترجمان ٹام وڈاکن نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "بی جے پی اور حکومت کسی بھی برادری یا شخص کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔"

جون میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا، "کسی بھی امتیاز کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔"

مذہبی تنازعہ

ہندوستان میں فرقہ وارانہ تصادم کی ایک طویل تاریخ ہے۔ گذشتہ ایک عشرے میں بی جے پی کی حکومت کے دوران انسانی حقوق کے گروپس نے پارٹی کے ارکان اور اتحادیوں پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کا الزام لگایا ہے جو زمین پر تشدد کو ہوا دیتی ہے۔

حالیہ برسوں میں لَوجہاد اور کروناجہاد جیسے ہیش ٹیگز وائرل ہوئے ہیں اور انہیں مسلمانوں پر جان بوجھ کر کورونا وائرس پھیلانے اور ہندو خواتین سے زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور ان سے شادی کرنے کا جھوٹا الزام لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بی جے پی جس کے 2024 میں تیسری بار جیتنے کی وسیع پیمانے پر پیش گوئی کی جارہی ہے، نے مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے ایک قومی مہم شروع کی ہے۔ ایک سینئر مسلم پارٹی لیڈر نے رواں ماہ رائٹرز کو بتایا کہ ہندو مسلم تشدد اب صرف اس لیے سرخیوں میں آتا ہے کیونکہ سیاسی حریف اسے پارٹی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

 نومبر 2023 کو راجستھان کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے دوران ایک خاتون پولنگ اسٹیشن میں ووٹ دے رہی ہے۔ (رائٹرز)
نومبر 2023 کو راجستھان کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے دوران ایک خاتون پولنگ اسٹیشن میں ووٹ دے رہی ہے۔ (رائٹرز)

واشنگٹن میں قائم ایک گروپ ہندوتوا واچ کے مطابق انتخابات اکثر مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

حقائق کی جانچ کرنے والی تنظیم بوم لائیو نے انکشاف کیا کہ مئی میں جنوبی کرناٹک ریاست میں انتخابات سے قبل غلط معلومات میں اضافہ ہوا تھا جس میں اپوزیشن کانگریس پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔

بوم لائیو کے ڈپٹی ایڈیٹر کیرن ریبیلو نے کہا، "مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی غلط معلومات زیادہ پیچیدہ اور جارحانہ ہو گئی ہیں۔ زیادہ تر جھوٹے دعوے منفی دقیانوسی تصورات کو تقویت دیتے ہیں۔"

فیس بک اور انسٹاگرام کے مالک میٹا پلیٹ فارمز نے کہا ہے کہ اس نے ہندوستان میں حقائق کی جانچ کرنے والوں میں مزید اضافہ کیا ہے جس سے اس کے "میٹا میں حقائق کی جانچ کرنے والے تیسرے فریق کے شراکت داروں کی تعداد عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہو گئی ہے۔"

کمپنی نے کہا کہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب "خلاف ورزی کرنے والے مواد کو جلد از جلد ہٹاتا ہے جب بھی کوئی ایسی چیز نظروں میں آ جائے۔" اور مزید کہا اس کی ٹیم "مواد کی خطرناک شکلوں" کے رجحانات کی نگرانی کرتی ہے اور بڑے مسائل بننے سے پہلے ان پر توجہ دیتی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ہٹانے کی درخواستیں

ہندوستان اپنی نوجوان آبادی کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے جس میں فیس بک پر 300 ملین سے زیادہ صارفین ہیں اور یوٹیوب اور واٹس ایپ پر بھی الگ الگ تقریباً 500 ملین ہیں۔

مواد کو معتدل بنانے پر سوشل میڈیا فرموں کا بھارتی حکام کے ساتھ اکثر جھگڑا ہوتا رہا ہے۔

مودی کی حکومت نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر 2020 میں شارٹ فارم ویڈیو ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی تھی اور سوشل میڈیا کے قواعد کو سخت کر دیا ہے۔

میٹا کے اعداد و شمار کے مطابق اسے 2022 کی دوسری ششماہی میں ہندوستانی حکومت سے مواد ہٹانے کی تقریباً 64,000 درخواستیں موصول ہوئیں۔

یوٹیوب نے اس سال اپریل تا جون میں ہندوستان میں 20 لاکھ سے زیادہ ویڈیوز کو ہٹا دیا جو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔

ایک عالمی غیر منافع بخش ادارے ہیومن رائٹس واچ میں ایشیا کے لیے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر جے شری باجوریا نے کہا۔ "بی جے پی کے قائدین یا حامیوں کا احتساب نہیں کیا جاتا جو مسلمانوں یا دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تبصرے کرتے ہیں۔"

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت اور وزارتِ داخلہ نے تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

میٹا کے ترجمان نے کہا، "میٹا کی "نفرت انگیز تقریر کے خلاف واضح پالیسیاں ہیں اور یہ ایسے مواد کو ہٹا دیتا ہے جو کسی کو بھی ان کے مذہب، قومیت، نسل یا ذات کی بنیاد پر نشانہ بنائے۔"

'تعصب کو وسعت دینا'

ایک برطانوی غیر منافع بخش ادارے سنٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹرڈ نے گذشتہ سال ایک رپورٹ میں کہا۔ "یہ صرف ہندوستان میں ہی نہیں ہے: سوشل میڈیا کمپنیاں 89 فیصد پوسٹس کے خلاف عمل کرنے میں ناکام رہیں جن میں مسلم مخالف نفرت اور اسلاموفوبک مواد کی اطلاع دی گئی تھی۔"

ہندوستانی شہر حیدرآباد میں اقلیتی حقوق کے کارکن ایس کیو مسعود نے کہا، "یہ پلیٹ فارم نفرت انگیز تقریر کو بند کرنے کے بجائے مسلم صارفین کو بند کرنے کا زیادہ ارادہ رکھتے ہیں۔"

جب جون میں مشرقی ریاست اڈیشہ میں ایک ٹرین حادثے میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہو گئے تھے تو بوم اور آلٹ نیوز نے اس واقعے کے بارے میں کم از کم ایک درجن جھوٹے الزامات کو دستاویزی شکل دی۔

واٹس ایپ پر غلط معلومات کا مطالعہ کرنے والی نیو جرسی میں رٹجرز سکول آف کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن کی اسسٹنٹ پروفیسر کرن گریمیلہ نے کہا، "یہ پیغامات اس لیے وائرل ہو جاتے ہیں کیونکہ معاشرے میں ان بیانیوں کی حمایت کرنے والے موجود ہیں۔ یہ پلیٹ فارم صرف تعصبات کو وسعت دینا آسان بناتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں