جرمنی کی خصوصی ایلچی برائے شرقِ اوسط نے سعودی عرب کی غزہ امدادی کوششوں کو سراہا

ڈیک پوٹزل کا ایک اہم مقصد 'غزہ کو مزید امداد پہنچانے کے طریقے تلاش کرنا' تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شرقِ اوسط کے انسانی مسائل کے لیے جرمنی کی خصوصی ایلچی ڈیک پوٹزل نے غزہ کی امدادی کوششوں پر سعودی عرب کی تعریف کی ہے۔

اتوار کو ریاض کے دورے کے دوران انہوں نے جرمنی کے انسانی تعاون پر بھی روشنی ڈالی۔

پوٹزل نے عرب نیوز کو بتایا: "میں اس موقع کو سعودی عرب کے عزم کو سراہنے کے لیے استعمال کرنا چاہوں گی۔ یہ دیکھ کر واقعی حیرت ہوئی ہے کہ سعودی عرب سے کتنی زیادہ امداد آئی ہے۔ یہ ان کا ایک بہت بڑا عزم ہے۔"

"میں آج (سعودی امدادی ایجنسی) کے ایس ریلیف کے ساتھیوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ جو وہ غزہ میں لوگوں کی مدد کے لیے کر رہے ہیں، اس پر میں ان کی بہت تعریف کرتی ہوں۔"

ریاض میں جرمن سفیر نے شاہی عدالت کے مشیر اور کے ایس ریلیف کے جنرل سپروائزر عبداللہ الربیعہ کے ساتھ فلسطینی عوام کے لیے امدادی اقدامات پر بات چیت کی۔

مملکت نے خوراک، طبی اور پناہ گاہ کے سامان کے ساتھ غزہ کے لیے اپنی انسانی امداد کو تیز کر دیا ہے اور اتوار کی صبح 20 طیارے سامان لے کر مصر کے العریش بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے۔

پوٹزل نے کہا کہ میٹنگ کے دوران انہوں نے "دونوں میں سے ہر ایک کے کاموں کا موازنہ کیا" اور مزید کہا کہ الربیعہ نے حال ہی میں ہوائی اڈے اور رفح سرحدی گذرگاہ کا دورہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا، "ہم نے امداد کے لیے بدستور موجود رکاوٹوں کے بارے میں بہت بات کی اور یہ دیکھنے کے لیے کہ ہم مشترکہ طور پر کیا کر سکتے ہیں اور ہمارے مشترکہ اہم نکات کیا ہیں۔"

پوٹزل نے نشاندہی کی کہ ان کا ایک اہم مقصد "غزہ کے لیے مزید امداد پہنچانے کے طریقے تلاش کرنا" تھا اور مزید کہا کہ جرمنی "انسانی امداد کے حوالے سے غزہ کے لوگوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔"

پوٹزل کو ان کے کردار کے لیے جرمنی کی وزیرِ خارجہ اینالینا بیرباک نے مقرر کیا تھا جنہوں نے خود 7 اکتوبر سے خطے کے تین دورے کیے ہیں۔

19 اکتوبر کو عمان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بیرباک نے کہا: "ہم فلسطینیوں کے لیے اپنی حمایت میں اضافہ کر رہے ہیں جو حماس کے (اسرائیل پر) حملے کا شکار بھی ہوئے ہیں۔ جرمن حکومت نے غزہ کی شہری آبادی کے لیے ہماری انسانی امداد میں فوری طور پر 50 ملین یورو (54.7 ملین ڈالر) کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

وزیر نے مزید کہا کہ یہ فنڈنگ غزہ کے لوگوں کو خوراک کی فراہمی کے لیے عالمی غذائی پروگرام، یونیسیف اور یو این آر ڈبلیو اے جیسی بین الاقوامی تنظیموں کی مدد کے لیے استعمال کی جائے گی۔

بیرباک نے مزید کہا۔ "ہمارا پیغام واضح ہے؛ ہم معصوم فلسطینی ماؤں، باپوں اور بچوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی نے اس سال غزہ کے لیے انسانی امداد پر 160 ملین یورو سے زیادہ رقم خرچ کی۔"

پوٹزل نے نشاندہی کی کہ غزہ میں زمین پر موجودہ اہم ترین مسئلہ مزید سامان بھیجنے کی ضرورت کا ہے۔

خصوصی ایلچی نے کہا۔ "اس کا مطلب ہے کہ پانی کی سپلائی جاری رہے اور اس کے لیے ہمیں ایندھن علاقے کے اندر لانے کی بھی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہم کافی عرصے سے زور لگا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو دوبارہ چلانے اور کنوؤں میں پانی کے پمپ چلانے کے لیے بھی ایندھن کی ضرورت ہے۔ یہ (مقاصد کا) ایک بہت وسیع پورٹ فولیو ہے۔"

انہوں نے غزہ میں طبی آلات اور ادویات کی فوری ضرورت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا جرمن حکومت اردن کے لیے طبی سامان کی مالی اعانت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

مزید برآں پوٹزل نے نوٹ کیا کہ جرمنی اپنے مصری شراکت داروں کے ساتھ مل کر مصر کو غزہ سے آنے والے مریضوں کے علاج کے لیے 1.5 ملین یورو کا طبی سامان فراہم کر رہا ہے۔

"ہم انسانی بنیادوں پر توقف کی بہت زیادہ وکالت کر رہے ہیں تو ہم یہ دیکھ کر بہت خوش ہیں کہ کچھ یرغمالیوں کو رہا کیا جا رہا ہے اور یہ کہ ایک وقفہ ہے تو مزید امداد پہنچ سکتی ہے اور زیادہ لوگ محفوظ ہیں کہ جا کر امداد حاصل کر سکیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم اقوامِ متحدہ کی تنظیموں اور ہلالِ احمر کے اداروں کے لیے فنڈ فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ انہیں غزہ کے لوگوں تک پہنچا سکیں۔

ریاض کے دورے کے بعد پوتزل تل ابیب میں مذاکرات کے لیے اسرائیل جانے والی تھیں۔

انہوں نے کہا: "ہم (اسرائیل میں) دیگر سرحدی گزرگاہوں کے استعمال کے بارے میں بات کریں گے۔ تاحال یہ صرف رفح ہے اور ہم اسرائیل سے دوسری گذرگاہون کو کھولنے کے بارے میں بات کرنا اور کرتے رہنا چاہتے ہیں اور ایندھن کا مسئلہ بھی اور یہ کہ مزید ایندھن کیسے لایا جائے اور مزید امداد لانے کے لیے دیگر مسائل پر بات کریں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں