روس نے غزہ کو تقسیم یا بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی تجاویز مسترد کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روس نے غزہ کو تقسیم کرنے اور بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی مختلف تجاویز مسترد کر دی ہیں۔ اس امر کا اظہار روسی سفیر اناطولی ویکٹوروف پیر کے روز ریاستی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔

روسی سفیر کے مطابق غزہ کے بارے میں زیر گردش تجاویز کو کلی طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا 'یہ بھی قبول نہیں ہے کہ غزہ کے لوگوں کو باہر کسی دوسری جگہ بسا دیا جائے۔'

ان کا کہنا تھا جو چیز سب سے اہم ہے وہ بین الاقوامی سطح سے اہل غزہ کی مدد کو یقینی بنایا جانا ہے۔ بات چیت کا سلسلہ اپنے طور پر نہیں رکا ہے، یہی چیز اس معاملے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

واضح رہے اسرائیلی وزیر اعظم نے ماہ نومبر کے شروع میں کہا تھا 'غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوج غزہ میں ہی رہے گی، اسرائیل بین الاقوامی افواج کے سرحدوں پر ہونے کے حوالے سے ان پر اعتبار نہیں کرے گا۔'

نیتن یاہو نے بعد ازاں غزہ کے کنٹرول بارے یہ بھی کہا 'فلسطینی اتھارٹی ابھی غزہ پر حکمرانی کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس لیے حماس کے خاتمے کے بعد اسرائیل کو ہی غزہ میں کنٹرول سنبھالنا چاہیے۔'

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے ماہ نومبر کے وسط میں کہا تھا کہ بالآخر فلسطینی اتھارٹی کو ہی غزہ اور مغربی کنارے میں حکمرانی کرنی ہو گی۔ جو بائیڈن نے مزید کہا 'جیسا ہم امن کے لیے کوشاں ہیں، غزہ اور مغربی کنارے کو ایک حکومت کے نیچے متحدہ کرنا ہو گا، اس کے ساتھ ساتھ دو ریاستی حل کی طرف بڑھنا ہو گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں