امریکہ جنگ بندی میں توسیع سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے پر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی میں دو دن کے لیے توسیع کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی نے پیر کی شام رپورٹرز سے بات چیت کے دوران کہا 'ہم امید کرتے ہیں کہ انسانی بنیادوں پر جنگ میں کیا گیا یہ وقفہ ابھی مزید طویل ہو گا۔'

جان کربی نے قطر کی ثالثی کے نتیجے میں چار دنوں کے لیے ہونے والی جنگ بندی میں دو دنوں توسیع کو سراہتے ہوئے کہا 'اس اعلان کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم یقیناً یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ جنگ میں کیا گیا یہ وقفہ مزید آگے بڑھے گا۔ تاہم اس امر کا انحصار حماس کی طرف سے یرغمالیوں کی رہائی جاری رکھنے پر ہو گا۔'

امریکی ترجمان نے رپورٹرز کو بتایا 'حماس نے اگلے دو دنوں کے دوران غزہ میں یرغمال بنائے گئے 20 بچوں اور عورتوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔' لیکن ترجمان نے اس بارے میں کم ہی امید ظاہر کی ہے کہ یہ جنگ بندی زیادہ مستقل ہو سکے گی۔'

ایک سوال کے جواب میں جان کربی نے کہا 'میں اسرائیلی فوج کی طرف سے تو کچھ نہیں کہتا لیکن یہ صاف لگتا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو گی تو اسرائیلی فوج حماس کی قیادت کو ہدف بنانا جاری رکھے گی۔'

صدر جو بائیڈن کے حوالے سے امریکی ترجمان کا کہنا تھا 'وہ سمجھتے ہیں یرغمالیوں کو رہائی دلانے اور غزہ میں سنگین مسائل سے دوچار لوگوں کو امداد دینے کے سلسلے میں ان کا نقطہ نظر نتائج دے رہا ہے۔'

جان کربی نے مزید کہا 'جو بائیڈن اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگی وقفہ کرانے کے لیے ذاتی طور ' انوالو' رہے ہیں۔ نیز اس وقفے میں توسیع کے لیے بھی کوشاں رہے ہیں۔'

واضح رہے اسرائیل حماس جنگی وقفہ 24 نومبر سے چار دن کے لیے شروع ہوا تھا۔ اب یہ وقفہ پیر کی شام مزید دو دن کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں