غزہ کی پٹی میں جنگ بندی میں توسیع امید کی علامت ہے: گوتریس

حماس نے اسرائیل کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں مزید دو دن کی توسیع کی تصدیق کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں دو دن کے لیے جنگ بندی میں توسیع امید اور انسانیت کی ایک کرن ہے۔ حالانکہ 2 دن پٹی میں موجود لوگوں کو ضروری امداد پہنچانے کے لیے ناکافی ہے۔

گوتیریس نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جنگ کے اندھیروں کے درمیان امید اور انسانیت کی ایک کرن ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس سے ہمیں غزہ کے لوگوں کے لیے انسانی امداد کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا موقع ملے گا جو بہت زیادہ مصائب کا شکار ہیں۔

حماس اور قطر نے پیر کے روز غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں مزید دو دن کی توسیع کی توثیق کی ہے تاکہ حماس کے زیر حراست مزید یرغمالیوں کو رہا کیا جا سکے۔ اسرائیل نے فوری طور پر جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق نہیں کی جبکہ وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز اس توسیع کا خیرمقدم کیا۔

یاد رہے حماس نے 2007 سے غزہ کی پٹی کو کنٹرول کر رکھا ہے۔ قبل ازیں حماس نے کہا تھا کہ وہ قیدیوں کی ایک نئی فہرست تیار کر رہی ہے جس کا مقصد انہیں رہا کرنا ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی میں توسیع پر عمل کیا جا سکے۔

چار روزہ جنگ بندی آج منگل کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ختم ہورہی تھی۔ اب دو دن کی توسیع کے بعد جمعرات کی صبح سات بجے ختم ہوگی۔

واضح رہے پہلے امریکی صدر جو بائیڈن، پھر یورپی یونین اور نیٹو نے جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں