ورمونٹ میں تین فلسطینیوں پر فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پولیس نے تین فلسطینیوں کو گولی مار کر قتل کرنے والے مشتبہ امریکی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ تین فلسطینی طلبہ کو ہفتے کی شام اس وقت گولی ماری گئی تھی جب یہ تینوں یونیورسٹی کیمپس کے نزدیک ہی 'تھینکس گوینگ ہالیڈے‘ کے سلسلے میں تقریب میں شریک ہونے جارہے تھے۔

محکمہ پولیس برلینگٹن کے بیان کے مطابق اس واقعے کے بعد اگلی سہ پہر کو 'بیورو آف الکحل، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ ایکلسپلوسیو' کے اہلکاروں نے 48 سالہ شخص جیسن جے ایٹن کو گرفتار کر لیا۔ جبکہ فائرنگ کا واقعہ پیش آنے والے اس علاقے میں تلاشی مہم شروع کر دی۔

حکام نے جائے وقوعہ کے سامنے جیسن جے ایٹن کے اپارٹمنٹ سے شواہد اکٹھے کیے۔ جبکہ ایٹن کو پیر کے روز عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی۔ پولیس حکام کے مطابق تین افراد پر فائرنگ کا یہ واقعہ ہفتہ کی شام چھ بج کر پچیس منٹ پر پیش آیا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق گولی کا نشانہ بنائے گئے تینوں طلبہ کی عمر 20 سال کے نزدیک ہے۔ تینوں میں سے دو کی حالت مستحکم ہے۔ لیکن ایک کی حالت نازک ہے۔ تینوں فلسطینی طلبہ اپنے میں سے ایک کے رشتہ دار سے ملاقات کے لیے پیدل ہی جا رہے تھے جب ان کے سامنے ایک سفید فام امریکی آ گیا۔ پولیس کے مطابق اس سفید فام کے ہاتھ میں 'ہینڈ گن' تھی۔

نشانہ بننے والو ں کے ایک رشتہ دار مراد نے اتوار کے روز پولیس کو بتایا اس امریکی نے بغیر کچھ بولے اپنے پستول کے کم از کم چار راؤنڈ چلائے۔ تینوں فلسطینیوں میں سے دو کو دھڑ میں گولی لگی جبکہ ایک کے نچلے حصے میں گولی ماری گئی اور اس کے بعد فائرنگ کرنے والا بھاگ گیا۔

رشتہ دار مراد کے مطابق بعد ازاں ہلاک ہو جانے والے تینوں فلسطینی ہیں۔ ان میں سے دو امریکی فلسطینی ہیں جبکہ ایک قانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھا۔ انہوں نے روایتی فلسطینی مردانہ سکارف 'کوفیہ' لیے ہوئے تھے۔

امکان ہے کہ برلنگٹن کے مئیر وین برگر مراد کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں شامل ہوں گے۔ تاکہ اب تک کی تحقیقات پر بات کر سکیں۔

مراد نے مارے گئے تینوں افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور کہا ' اس کے پاس اس کے علاوہ ایسی معلومات نہیں ہیں، جن کی بنیاد پر واقعے کے محرکات کا مزید اندازہ ہو سکے۔

مراد نے واقعے کے محرکات بارے بات کرتے ہوئے کہا ’الزام کی اس سطح پر کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا ہے اور نہ شک کر سکتا ہے کہ ایک نفرت کی وجہ سے پیش آیا واقعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہم اس قدر نہیں جانتے جتنا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں۔ لیکن میں چاہوں گا کہ عوام ان افراد کی معلومات کی بنیاد پر کسی نتیجے پر نہ پہنچیں جو واقعے کا حصہ نہیں ہیں اور ان کے پاس بہت کم معلومات ہیں۔ '

عربوں کے ساتھ امتیاز کے انسداد کے لیے قائم کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے'فائرنگ کا نشانہ بنائے گئے تینوں فلسطینی تھے اور کالج کے سٹوڈنٹس تھے۔ ایک ہی وجہ جو قابل یقین ہے کہ یہ سب عرب تھے اس لیے نشانہ بنائے گئے۔'

بیان کے مطابق ایک شخص نے ان تین عربی بولنے والوں کو ڈرایا پھر ان پر چلایا اور اس کے بعد اس چلانے والے نے گولی چلا دی۔

امریکی ادارے ایف بی آئی نے ' ایکس' پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا 'برنلنگٹن پولیس، اے ٹی ایف اور دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر تحقیاقات کی جا رہی ہیں۔ '

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس واقعے کے بارے میں بتایا ہے کہ صدر جو بائیڈن کو بریفنگ دی گئی۔ انہیں قانون نافذ کرنے والے اقدامات سے بھی 'اپ ڈیٹ' کیا جاتا رہے گا۔

دی کونسل آف امیریکن اسلامک ریلیشنز نے اپنے ایک جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ اس نے 10000 امریکی ڈالر کی رقم اس فرد کے لیے مختص کی ہے جو واقعے سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔

یاد رہے ماہ اکتوبر میں ایک امریکی ستر سالہ شخص نے ایک چھ سالہ بچے کو چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا تھا، اس کی وجہ اسرائیل حماس جنگ بنی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں