" اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا" مسک نے اسرائیل کی حمایت کردی، نیتن یاھو سے ملاقات

حماس کے مقابل اسرائیل کا حامی ہوں، قتل کرنے پر آمادہ کرنے والے پروپیگنڈے کو روکنا ایک چیلنج ہے: امریکی ارب پتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حالیہ عرصہ میں شدید تنقید کا نشانہ بننے والے امریکی ارب پتی ایلون مسک نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔ مسک پر یہودی دشمنی کے الزامات لگائے جارہے تھے۔ تاہم پیر کو اچانک مسک نے اسرائیل کی حمایت کا اعلان کردیا۔ ایلون مسک نے حماس کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے بعد اسرائیل کی کارروائی کی حمایت کا اظہار کیا۔ ایلون مسک نے کہا چیلنجوں میں سے ایک چیلنج اس پروپیگنڈے کو روکنا بھی ہے جو جو لوگوں کو قتل میں ملوث ہونے پر آمادہ کرتا ہے۔

Advertisement

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک لائیو آن لائن چیٹ میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ حماس کو ختم کرنا ضروری ہے۔ مسک نے کہا کہ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں میں بھی اس میں مدد کرنا چاہوں گا۔ اس سے قبل مسک نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ، بستی "کفار عزہ" کا دورہ کیا۔ یہ بستی 7 اکتوبر کے حماس کے حملوں میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی بستی ہے۔

اسرائیل نے پیر کو کہا کہ اس نے مسک کے ساتھ اصولی طور پر اسرائیلی وزارت مواصلات کی منظوری کے بعد غزہ کی پٹی میں مسک کی کمپنی سپیس ایکس کے سٹار لنک کمیونیکیشن سروس استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ مسک کے دفتر نے ابھی تک اس دورے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

نیتن یاہو نے 18 ستمبر کو کیلیفورنیا میں مسک سے ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ "ایکس" پر یہود مخالف مواد اور اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں۔

واضح رہے حماس نے 7 اکتوبر کو غزہ کے اطراف کی اسرائیلی بستیوں پر اچانک حملہ کرکے دنیا کو حیران کردیا تھا۔ اس حملے میں 1200 اسرائیلیوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے 240 کے قریب اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ حماس کے اس حملے کے بعد اسرائیل نے اسی روز غزہ پر بمباری شروع کردی اور غزہ کی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنانا شروع کردیا تھا۔ 27 اکتوبر کو صہیونی فوج نے غزہ کی پٹی میں داخل ہوکر زمینی کارروائیاں بھی شروع کردی تھیں۔ جنگ کے 48 دنوں میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں لگ بھگ 16000 فلسطینیوں کو شہید کردیا اور 35000 کو زخمی کردیا۔ شہید ہونے والوں میں 5600 بچے بھی شامل تھے۔ 24 نومبر کو جنگ کے 49 ویں روز چار روز کی عارضی جنگ بندی کا آغاز ہوا۔ ان چار دنوں میں 50 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے 150 فلسطینی قیدیوں کو رہا کردیا گیا ہے۔ جنگ بندی میں دو روز کی توسیع کردی گئی ہے اور اب 53 ویں اور 54 ویں روز بھی جنگ بند رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں