اقوامِ متحدہ کافلسطین-اسرائیل بحران کے دوریاستی حل کی جانب 'ناقابل واپسی'اقدام پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز عالمی برادری سے فلسطین-اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یروشلم کو دونوں ریاستوں کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔

جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کی ڈائریکٹر جنرل تاتیانا ویلوایا نے ایک تقریر کرتے ہوئے کہا، "اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر دو ریاستی حل کی طرف پرعزم، ناقابلِ واپسی انداز میں پیش رفت بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھی۔" یہ تقریر اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی تحریر تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب ہوگا "اسرائیل اور فلسطین امن و سلامتی کے ساتھ شانہ بشانہ زندگی گذاریں جبکہ دونوں ریاستوں کا دارالحکومت یروشلم ہو گا۔"

یہ تبصرے اقوامِ متحدہ کے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر سامنے آئے ہیں جسے وہ ہر سال مناتا ہے۔ یہ دن اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے اور یروشلم پر بین الاقوامی حکمرانی کے منصوبے کی منظوری کی علامت ہے۔

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں کے بعد دو ریاستی حل کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے جس میں حماس کے مزاحمت کاروں نے 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور 240 کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس حملے سے حماس کے زیرِ اقتدار غزہ کے خلاف اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائی کا آغاز ہوا جس میں گنجان آباد علاقے میں فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق 15,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دو ریاستی معاہدے سے اسرائیل کے برابر مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے لیے ایک الگ ریاست قائم ہوگی۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست غیر فوجی ہونی چاہیے تاکہ اس کی سلامتی کو خطرہ نہ ہو۔

فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں جس میں قدیم شہر کے مقامات شامل ہیں جو مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے یکساں طور پر مقدس ہیں۔ جبکہ اسرائیل کہتا ہے کہ یروشلم کو اس کا "ناقابلِ تقسیم اور ابدی" دارالحکومت رہنا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ میں فلسطینی سفیر ابراہیم خریشی نے جنیوا میں کہا موجودہ تنازعہ نے دو ریاستی حل کی حمایت کے لیے بین الاقوامی برادری کو جگانے کا کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "دو ریاستی حل (اسرائیلی) آباد کاری اور (علاقے کے) سکڑنے کے بعد مشکل ہے لیکن پھر بھی ممکن ہے اگر ارادہ ہو۔ یہی وہ وقت ہے۔ اور ویسے یہ اسرائیل کے لیے اچھا ہے۔ اگر وہ اس خیال کو قبول نہ کریں تو ان کے لیے بہت دیر ہو جائے گی، ہمارے لیے نہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں