اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر فلسطینی پرچم پوسٹ کرنے والی امریکی اہلکار کو مشکل کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ پر اسرائیلی جنگ کے صرف دو ہفتے بعد ایک سینیر امریکی خاتون اہلکار بہ ظاہر فلسطینی کاز کے حامیوں میں شامل ہوئیں جس کے بعد وہ میڈیا کی سرخوں میں نمایاں طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔ تاہم امریکی اہلکار نے وضاحت کی ہے کہ فلسطینی پرچم پوسٹ کرنے کا موجودہ غزہ جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس نے اپنے فیس بک پیج سے فلسطینیوں کی حمایت میں تمام مواد ڈیلیٹ کردیا ہے۔

فیس بک پر تائیدی تصاویر

’فنانشل ٹائمز‘ کے مطابق منگل کے روز ایک نئی امریکی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ایک سینئر اہلکار نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر کئی فلسطینی حامی تصاویر پوسٹ کیں، جس سے انہیں سرکاری حلقوں میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ برطانوی اخبار نے اہلکار کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم واشنگٹن فری بیکن کے مطابق سی آئی اے نے انکشاف کیا کہ وہ انٹیلی جنس کی اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر ایمی میک فیڈن ہیں۔

اخبار نے بتایاکہ اہلکار نے 21 اکتوبر کو اپنے فیس بک پیج کی سرورق کی تصویر کو تبدیل کر دیا تھا۔ اس نے کور فوٹو میں ایک ایسے شخص کی تصویر پوسٹ کی جس کے گلے میں فلسطینی پرچم لپیٹا اور ایک بڑا جھنڈا دکھائی دے رہا ہے۔

اہلکار نے ایک پوسٹر کے ساتھ ایک سیلفی بھی شیئر کی جس پر "فری فلسطین ‘کے الفاظ تحریر کیے۔

پھر تمام تصاویر ڈیلیٹ کر دیں

قابل ذکر ہے کہ اخبار نے تصدیق کی کہ اہلکار نے بعد میں تمام تصاویر کو ڈیلیٹ کر دیا۔

جب کہ ایک باخبر ذریعہ نے بتایا کہ متعلقہ خاتون کا ماہر تجزیہ کار اور تجزیاتی شعبے میں پیشہ ورانہ کیریئر ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ کے تمام پہلوؤں پر وسیع نظر رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی پرچم کی اشاعت جنگ سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کا تعلق فلسطین کے حالیہ واقعات کےساتھ نہیں۔

تاہم اخباری رپورٹ کے مطابق خاتون اہلکار کا اکاؤنٹ یہود دشمنی کا مقابلہ کرنے کے بارے میں اس کے موقف کے بارے میں پوسٹس سے بھرا ہوا ہے۔

’این بی سی نیوز‘ کے مطابق سی آئی اے نے ایک اندرونی ای میل بھیجا جس میں ملازمین کو اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سیاسی پیغامات پوسٹ کرنے کے خلاف تنبیہ کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں