ایلون مسک ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اشتہارات بند کرنے والی کمپنیوں پر برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ارب پتی ایلون مسک نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر سامی مخالف سازشی تھیوری کی حمایت کے الزام میں "ایکس" (سابقہ ٹویٹر) سے اپنے اشتہارات نکالنے پر ان کمپنیوں کو تنقید کانشانہ بنایا ہے۔

مسک نے بدھ کے روز نیویارک میں ڈیل بک سمٹ میں اس پوسٹ کے لیے معذرت کی لیکن کہا کہ مشتہرین انھیں "بلیک میل" کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ان برانڈز کے لیے ان کا پیغام سادہ تھا جس میں انہوں نے کہا کہ "تشہیر نہ کریں‘‘۔انہوں نے اپنی بات پر زور دینے کے لیے کئی بار اسے دہرایا‘‘۔

"سفید فاموں کے خلاف نفرت"

تقریباً 200 بڑے مشتہرین بشمول ڈزنی، ایپل اور آئی بی ایم نے "ایکس" پر اشتہارات بند کر دیے۔ ان کمپنیوں کا دعویٰ تھا کہ مسک نے ایک پوسٹ سے اتفاق کیا جس میں یہودی کمیونٹیز پر "سفید مخالف نفرت" چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

مسک نے ’ایکس‘ ویب سائٹ پر ایک پوسٹ کی حمایت کی جس میں ایک پرانے سازشی نظریے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ کہا گیا تھا کہ یہودیوں کا مغربی ممالک میں غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی کا خفیہ منصوبہ ہے جس کا مقصد وہاں سفید فام اکثریت کے تسلط کو کمزور کرنا ہے۔

مسک نے پوسٹ کے مصنف کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ "اصل سچ بتا دیا گیا ہے"۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر اشتہارات کو منجمد کرنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو اس سہ ماہی میں کمپنی کو 75 ملین ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔

"بائیکاٹ پلیٹ فارم کو دیوالیہ کر سکتا ہے"

اشتہارات ’ایکس‘ کی زیادہ تر آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ اگرچہ مسک نے تسلیم کیا کہ بائیکاٹ پلیٹ فارم کو دیوالیہ کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس کے خاتمے کے لیے برانڈز کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔

مسک نے بعد میں کہا کہ انہیں اس خاص پوسٹ کا جواب نہیں دینا چاہیے تھا۔ مجھے جو کہنا تھا وہ زیادہ وسیع پیمانے پر لکھنا چاہیے تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں